بلوچستان کے اساتذہ تاحال اپ گریڈیشن سے محروم ہیں گورنمنٹ ٹیچرز

کوئٹہ: گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی)بلوچستان کے زیراہتمام بدھ کو اپنے مطالبات کے حق میں صدر حاجی مجیب اللہ غرشین کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر مطالبات درج تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان کے صدر مجیب اللہ غرشین اوردیگر نے کہا کہ پورے پاکستان کے اساتذہ کو گزشتہ تین سال سے اپ گریڈ کیا گیا ہے لیکن بلوچستان کے اساتذہ اپ گریڈیشن سے محروم ہیں اسکے علاوہ پورے ملک کے اساتذہ کو دو سال کے دوران چالیس فیصد ڈسپیریٹی الاونس موجودہ بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان کے اساتذہ کو 2017ء کی بنیادی تنخواہ پر 25فیصد دیا گیا جوکہ صوبے کے ملازمین کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے موجودہ صوبائی حکومت اپنے آپ کو صوبے کے عوام کی نمائندہ حکومت کہتی نہیں تھکتی لیکن محکمہ تعلیم،طلبہ اوراساتذہ کے مسائل کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہی ہے جی ٹی اے آئینی بلوچستان کو احتجاج کا شوق نہیں ہے ہم اپنے مسائل کو روڑوں پر حل کرنے کی بجائے مذاکرات پریقین رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومت اوربیورو کریسی کے رویے نے ہمیں احتجاج پر مجبور کیا ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ جونیئرا ساتذہ کی اپ گریڈیشن سمری پراسس میں ہے جسے دو سال ہورہے ہیں اورچھ جنوری 2022سے مذکورہ سمری محکمہ قانون کے پاس پڑی ہے جس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا حالانکہ مذکورہ سمری پر وزیراعلیٰ نے احکامات جاری کئے ہیں لیکن بیورو کریسی اساتذہ دشمنی کی وجہ سے اس دیریہ مطالبے میں روڑے اٹکارہی ہے اوروزیراعلیٰ کے احکامات کو ہوا میں اڑادیا ہے اس حوالے سے جی ٹی اے آئینی بلوچستان تحریری طور پر صوبے کے ارباب اختیار کو آگاہ کرتی رہی ہے لیکن بدقسمتی سے کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بہ امر مجبوری صوبے کے اساتذہ نے جی ٹی اے آئینی کے پلیٹ فارم سے 18جولائی سے احتجاجی کیمپ قائم کرکے اپنے مطالبات کے حق میں علامتی بھوک ہڑتال پربیٹھ گئے ہیں اگر 26جولائی تک مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اساتذہ مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ دریں اثناء گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی کے زیراہتمام اپنے مطالبات کے حل کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لگایا جانے والا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بدھ کو تیسرے روز بھی جاری ہے جہاں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے آکر اساتذہ سے اظہاریکجہتی اور تعاون کا یقین دلایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں