پرامن احتجاج کو سپوتاژ کرنے کیلئے پولیس نے خواتین، بچوں پر لاٹھی چارج کیا، بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں مسنگ پرسنز کے ماورائے آئین و قانون قتل کے خلاف بلوچ مسنگ پرسنز کے پرامن ریلی پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور بلوچ خواتین کو زخمی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں زیارت کے مقام پر جعلی مقابلے میں عرصہ دراز سے لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جس کے خلاف بلوچ مسنگ پرسنز اور واقعے میں قتل افراد کے اہلخانہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس مقابلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ سے ان نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا تھا آج بلوچ مسنگ پرسنز اور لواحقین اس ماورائے آئین و قانون قتل کے خلاف ریڈ زون میں پرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے تو اس پرامن احتجاج کو سپوتاژ کرنے کیلئے پولیس نے خواتین بچوں پر لاٹھی چارج کرکے تشدد کا نشانہ بنایا بیان میں کہا کہ بلوچستان میں آئے روز تشدد قتل و غارت اور نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے بیان میں کہا کہ آج بھی مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ سے چار بلوچ نوجوانوں کو ان کے گھروں سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ بیان میں کہا کہ اگر کسی کا کوئی جرم ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں اس قسم کے واقعات سے عوام کا عدالتوں سے وفاق سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے بیان میں کہا کہ لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے بیان میں کہا کہ مسنگ پرسنز کو باحفاظت بازیابی کیلئے ایک غیر سنجیدہ متنازع شخص بلوچستان ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے سابق جحج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دی گئی اور کمیشن کے سامنے باپردہ خواتین کا پیش ہونا خواتین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس سے ظاہر ہوتا ہے حکومت مسنگ پرسنز کے بازیابی کیلئے کتنا سنجیدہ ہے بیان میں کہا کہ اس سے قبل بلوچ مسنگ پرسنز نے الزام لگایا تھا کہ توتک کے علاقے میں اجتماعی قبرستان کے دریافت پر بتایا گیا کہ لاپتہ افراد کے قبرستان ہیں جس پر بلوچستان ہائیکورٹ میں ایک حج کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دے دی گئی جس کا تاحال کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں لایا گیا اسطرح سانحہ خروٹ آباد پر ایک کمیشن بلوچستان ہائیکورٹ کے جحج کے سربراہی میں بنی تاحال اس کا بھی کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں لایا گیا بیان میں کہا کہ ایک بار پھر بلوچستان زیارت کے واقع کے خلاف ایک قوم پرست پارٹی کے سربراہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں کمیشن کا مطالبہ کیا بیان میں کہا کہ عثمان کاکڑ کے موت کے خلاف بلوچستان حکومت نے بلوچستان ہائیکورٹ کے جحجز سے کمیشن تشکیل کیلئے رجسٹرار بلوچستان ہائیکورٹ کو خط لکھا لیکن عثمان کاکڑ کے لواحقین اور پارٹی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں کمیشن تشکیل کا مطالبہ کیا بیان میں کہا کہ ماورائے آئین قتل و غارت سے عوام کا جوڈیشری سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے بیان میں کہا کہ سلیکٹڈڈ صوبائی نااہل حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تمام لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیابی کیلئے اقدامات اٹھائے خواتین پر تشدد کرنے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں