زیارت آپریشن فیک نہیں، حکومت مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے، فرح عظیم شاہ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے دھرنے اور ان کے مطالبات کے حوالے سے حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہا کہ مظاہرین سے ہمارے وزراء کے رابطے ہیں۔ ایک بار مذکرات بھی ہوئے ہیں۔ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حساس ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سونے کی چڑیا ہے۔ جس پر بہت سے لوگوں کی نظریں ہیں، یہاں پر بیرونی سازشیں بھی کارفرما ہیں، یہاں پر کچھ لوگ ایسے بھی جو راستے سے بھٹک گئے ہیں۔ فرح عظیم شاہ نے کہا کہ جو مجرم ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کرکے سزا دی جائے تاکہ ان کے لواحقین بھی مطمئن ہوسکیں۔ زیارت میں کرنل لئیق کے اغوا کے بعد سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ریاست بغیر دیکھے کوئی کارروائی نہیں کرتی ہے۔ اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔ جو اس واقعے کے ذمہ دار تھے، ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر چل رہا تھا کہ یہ فیک آپریشن ہے، یہ درست نہیں ہے۔ دوسری جانب دھرنا دینے والے افراد کا کہنا ہے کہ زیارت واقعہ کے بعد ان کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ لاپتہ افراد کو اب مقابلے میں مارا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے وہ زیارت واقعے کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسرے لاپتہ افراد کو اس طرح کے مقابلوں میں مارے جانے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں