جماعت اسلامی کی سیاسی جماعتوں کو قومی مکالمہ کیلئے میزبانی کی پیشکش
لاہور (انتخاب نیوز) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مکالمہ کے لئے میزبانی کی پیشکش کر دی۔ سراج الحق نے کہا کہ اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں اس کے لئے سیاستدانوں کے درمیان قومی مکالمہ کی اشد ضرورت ہے۔ 2018ء کے متنازعہ انتخابات کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے متعلق جو سوال اٹھے وہ آج بھی قائم ہیں۔ حکمران جماعت پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کو ربڑ سٹمپ بنا دیا تھا، لوگوں کا پارلیمنٹ پر اعتماد ختم ہو گیا۔ پی ٹی آئی نے فوج کو بھی متنازعہ بنا دیا۔ اب عدالت سے متعلق بھی عوام میں جانبداری کے تاثرات جنم لے رہے ہیں۔ اگر یہ ادارہ بھی متنازعہ ہو گیا تو 22 کروڑ عوام انصاف کے لئے کہاں جائیں گے۔ عدلیہ کو بھی اپنی غیر جانبداری کا تاثر بحال کرنا چاہیے۔ عدلیہ کے تقسیم ہونے کا تاثر عوام میں موجودہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں ورنہ انتخابات کے نتائج کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں امریکی کی غلامی، آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول اور کشمیر پالیسی پر یکجا ہیں۔ ان کی لڑائی صرف ذاتی مفادات پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو جھونپڑیوں اور دیہاتوں میں بسنے والے غریب لوگ حکمرانوں کے گھروں، محلات، ایوانوں اور دفاتر کا محاصرہ کریں گے-پھر انہیں بھاگنے کے لئے بھی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ دستوری معاملات کے حل کے لئے سپریم کورٹ کے اندر ایک الگ آئینی کمیشن تشکیل دیا جائے تا کہ دیوانی اور فوجداری مقدامات متاثر نہ ہوں – ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔


