بلوچستان ،بارشوں سے ہونے والی تباہ کاریاں جاری

کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والے مختلف قسم کے حادثات میں بیسیوں انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، سیکڑوں مویشی اوردرخت سیلابی پانی کی نذر ہوئے ہیں، سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلو ں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہوچکے ہیں اور 15 پل متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوگ سخت مشکل میں ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ جانے سے پاک ایران ریلوے سروس بند کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔نقصانات کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ متاثرین سے ملاقات کی اور بارشوں اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاءکے لیے 10 لاکھ امداد کا اعلان کیا، متاثرین سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ گھروں کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ روپے امداد، جزوی نقصان والوں کو دو لاکھ روپے یا زیادہ رقم دیں گے، انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ان کی بحالی اور امداد کے لیے تمام تراقدامات اٹھائے گی۔پاکستان کا کمزور انتظامی ڈھانچہ اور مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے حکومتی ادارے قدرتی اور شدید موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی شدید بارشیں ہوتی، سمندری اور دریائی سیلاب آتے ہیں، لیکن انفرا اسٹرکچر کی فعالیت اور انتظامیہ کے کوئیک رسپانس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں، نشینی علاقوں میں پانی بھی تھوڑے وقت کے لیے رہتا ہے لیکن پاکستان میں صورتحال اس سے قطعی طور پر مختلف ہے۔پاکستان کے سائنسدانوں اور حکمران اشرافیہ نے ایٹم بم تو بنالیا، میزائل ٹیکنالوجی میں بھی خاطر خواہ ترقی کی، ایٹمی بجلی بھی پیدا کی، فلورملیں قائم ہوگئیں، شوگر ملیں بن گئیں، سیمنٹ فیکٹریاں، کھاد فیکٹریاں قائم ہوگئیں، امراءنے محلات بنا لیے، اچانک امیر ہونے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔یہ امراءکلاس کسی کاروبار یا محنت کے بل بوتے پر پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ چور دروازوں سے ملنے والی غیرمعمولی مراعات ملنے سے امیر ہوئی، ایک طرف لوٹ مار سے امیر کلاس پیدا ہوئی تو دوسری جانب غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا چلا گیا، یہ سب کچھ ہوگیا لیکن اس ترقی کی قیمت ریاستی خصوصاً بلدیاتی اداروں کی تباہی کی صورت میں ادا کی گئی۔آج ملک میں وفاقی حکومت کے پاس کوئی مستقل پلاننگ نہیں ہے، کسی صوبائی حکومت کے پاس بھی کوئی پلاننگ نہیں ہے اور ضلع و بلدیاتی حکومتیں بھی فرائض کی ادائیگی سے بے نیاز ہوچکی ہیں۔ انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہے اور ہمارے مرکزی، صوبائی حکمران اور اداروں کے کرتا دھرتا چین کی بانسریاں بجا رہے ہیں۔پاکستان میں تباہ کاریاں قدرتی آفات کی وجہ سے کم اور ناقص منصوبہ بندی اور سرکار کی نااہلی اور کم فہمی کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔ بارش ہوتی ہے تو اس کی تباہ کاری قومی ذرائع ابلاغ کا موضوع بن جاتی ہے، جس کی ایک بڑی مثال کراچی جیسا میگا سٹی ہے۔ ہر سال مون سون بارشیں ہوتی ہیں ، لیکن قدرتی آبی گزر گاہوں پر تجاوزات اور جمع شدہ کچرے کے ڈھیر، بارش کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سیوریج نظام کی تباہی کے باعث صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ زرعی اراضی کے ایریگیشن چینلز کی تباہی ہوئی ہے۔گزشتہ چند برس کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو صرف بارشوں کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ کراچی اور سندھ میں بارشوں اور سیلاب نے تباہ کاریوں کی داستانیں رقم کی ہیں۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی تو بات ہی کیا کرنی، وہاں بس حکومتیں ہوتی ہیں لیکن ان کی کوئی ذمے داری نہیں ہوتی، عوام جائے بھاڑ میں۔ جنوبی پنجاب میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ پنجاب میں عملاً حکومت نام کی کوئی چیز اس وقت موجود نہیں ہے، صوبے میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام اس کی بنیادی وجہ ہے، لہٰذا انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کوئی کام نہیں کر رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں سیلاب ہوں یا طوفانی بارشوں کی تباہ کاریاں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا ادارہ بھی اپنی افادیت ثابت نہیں کرسکا۔ پاکستان میں گلوبل وارمنگ یا موسمیاتی تغیر کے باعث بارشوں میں اضافے اور سیلاب کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا چھٹا ملک بن گیا ہے۔پاکستان کے تمام شہروں میں نکاسی آب کا نظام انتہائی ناقص ہے، شہروں میں ابھی تک شہری سیلاب کے امکانات اور اس سے نمٹنے کی کوئی تیاری دکھائی نہیں دیتی، خود شہریوں نے بھی اپنے ا?پ کو اور اپنے اپنے شہر کو ڈبونے کا پورا بندوبست خود اپنے ہاتھوں کر رکھا ہے۔دریاو¿ں کے کنارے آبادیاں قائم ہیں، گندے نالے اور برساتی نالے چھوٹی چھوٹی نالیوں میں تبدیل کر دیے گئے اور باقی زمین لوگوں نے اپنے گھروں میں شامل کرلی ہے۔ سارا کچرا اور پلاسٹک کی اشیائ گندلے نالوں اور گٹروں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ متجاوزین کے سامنے جس طرح بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے وہ تباہی کا نوشتہ دیوار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں