بلوچستان میں سیلاب سے فصلیں تباہ اور زمیندار نان شبینہ کو محتاج ہوگئے، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ بلوچستان پہلے ہی بہت سے مسائل کا شکاررہاہے اور حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ان مسائل میں مزید اضافہ ہوگیاہے اس صورتحال میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے امدادی کارروائیوں کے حوالے سے خانہ پری کا رویہ اپنایاہے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور ادارے بروقت مناسب اقدامات اوروسائل کوبرو ئے کارلانے میں ناکام رہے ہیں۔یہ بات انہوں بی این پی کے مرکز ی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ ،بی این پی کے رہنماءو صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی ، سردار اسد اللہ مینگل، ارکان اسمبلی میر اکبر مینگل، احمد نواز بلوچ، شکیلہ نوید دہوار، ٹکری شفقت لانگو، غلام نبی مری، موسیٰ بلوچ سمیت دیگر نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے دوران امدادی کارروائیوں کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی سردمہری اورنااہلی سامنے آرہی ہے،صوبائی اور وفاقی حکومتیں اور ادارے بروقت مناسب اقدامات اوروسائل کوبرو ئے کارلانے میں ناکام رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں زمینی راستے منقطع ہیں،طبی سہولیات نہ ہونے کے برابرہیں اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی بھی بند ہیں،سیکرٹری جنرل بی این پی کا کہناتھا کہ اس صورتحال میں بین الاقوامی ادارے امدادکےلئے آگے آئیں، ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کو آفت زدہ قرار دیاجائے اور جن افراد کی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ان کے لواحقین کو فوری معاوضہ دیاجائے،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں لاکھوں ایکڑ پرکاشت فصلیں تباہ ہوگئیں، اور زمیندار نان شبینہ کو محتاج ہوگئے ہیں،اس موقع پر بی این پی کے پارلیمانی رہنماءملک نصیر شاہوانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد اورعلاقوں کےلئے کوئی علیحدہ اعلان نہیں کیا، جھل مگسی،نصیرآباد،جعفرآبادمیں بہت جگہوں پر لوگ سیلاب میں پھنس ےہوئے ہیں اور بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں،ان کا کہناتھا کہ بلوچستان میں اکثر کاروزگار زمینداری سے وابستہ ہے،100فیصدزمینداری ختم ہوگئی، ان کا کہناتھا کہ بلوچستان کو آفت زدہ تو قراردیاگیاہے،مگر خصوصی پیکیج کااعلان کیاجائے، بلوچستان میں زرعی قرضے،بجلی کےبل معاف کئے جانے چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں