ایمن الظواہری کو نشانہ بنانیوالا امریکی ڈرون کہاں سے اڑایا گیا، حافظ حسین احمد
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علما اسلام پاکستان کے سینئر رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ امارات اسلامیہ افغانستان میں ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والا امریکی ڈرون کہاں سے اڑایا گیا تھا اور کیا امریکہ افغانستان سے شرمناک شکست اور انخلا کے بعد بھی افغانستان میں ماضی کا وہی کھیل نیٹو افواج واپس بلانے کے باوجود جاری رکھنا چاہتا ہے۔ وہ بدھ کو اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں میڈیا اور مختلف وفود سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور کی طرح امریکہ ایک بار پھر پاکستان کے ایئر بیس اور سرزمین کو اسلامی امارت افغانستان کیخلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں 80 ہزار شہادتیں ہوئیں اور فاٹا کا پرامن اور ملک کا قدرتی دفاعی مورچہ آج مملکت پاکستان کے لیے مسئلہ بن چکا ہے اور ہم امارات اسلامیہ افغانستان کے توسط سے قبائل میں امن کے لیے سرگرم عمل ہیں اب دوبارہ اس عظیم غلطی کو دھرانے کے ہم کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتے۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ امریکہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر پاکستان کا کندھا استعمال کررہا ہے تاکہ ایک طرف امارات اسلامیہ افغانستان سے پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہوں بلکہ افغانستان میں بھارت کے اثر و نفوذ کو بڑھایا جاسکے اور غالباً ان مقاصد کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کے ذریعے ہماری معاشی صورتحال کو ہتھیار کے طور پر اب تک استعمال کیا جارہا ہے اور ہم اس حد تک کمزور ہوچکے ہیں کہ پاکستان جیسے ایٹمی صلاحیت کی حامل فوج کے سپہ سلار تک کو آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر قرضہ کی قسط کے لیے رابطہ کرنا پڑا ہے۔ جمعیت کے رہنما نے کہا کہ ملک میں معاشی عدم استحکام کی ایک بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے اور اگر ہر ادارہ اپنے آئینی حدود و اختیارات کا پاس رکھے تو ملک کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے ماضی سے سبق سیکھا اور ہمارا حال بے حال اور یہی حال رہا توخدانخواستہ مستقبل تاریک ہوسکتا ہے۔


