ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے تو مذاق بھی نہ اڑایا جائے، سمی کا نور محمد دمڑ کو جواب
کوئٹہ (انتخاب نیوز) اگرہمارے احتجاج کو سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی تو یہ مائیں اور بہنیں گزشتہ 18 دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے بے یارو مددگار لاوارثوں کی طرح چوراہے پر دربدر نہ ہوتیں۔ ان خیالات کا اظہار وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی رہنماء اور لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی دین بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے یہ باتیں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کے بیان کے جواب میں کیں۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی نور محمد دمڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ مطالبات جائز ہوں یا ناجائز، لوگ پریس کلب کے سامنے احتجاج پر بیٹھ جاتے ہیں، جنہیں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی سطح پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبے پر عملد درآمد بلوچستان حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ سمی دین بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ کب تک ہماری تکلیف و اذیتوں کو کبھی سیاسی جماعتوں، کبھی ملک دشمنوں کی پشت پناہی کا نام دیکر تو کبھی دوسرے الزامات سے ہمارے دکھوں کا مذاق اڑاتے رہیں گے؟ اگر ہمارے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتے تو کم ازکم ایسی باتوں سے گمشدہ کرنے والے اداروں کیلئے نئے راستے نہ کھولیں۔ سمی دین بلوچ نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ گورنر ہاؤس کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا 18 روز سے جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو دو قدم کے فاصلے پر رہائش پذیر ہیں لیکن انہوں نے دو ہفتوں سے زائد عرصے سے سڑکوں پر بیٹھی غمزدہ ماؤں سے ایک ملاقات کرنا تک گوارا نہیں سمجھا، پھر ہم حکومت سے مزید کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔


