کوئٹہ، کیڈٹ کالجز سے متعلق قانونی ترمیم کا مسودہ قانون قائمہ کمیٹی کے حوالے
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نقصانات کے ازالے اور بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کو ختم کرنے کی قراردادوں سمیت 2 قانونی ترمیم کی منظوری اور ایک تحریک التواء نمٹا دی گئی جبکہ کیڈٹ کالجز سے متعلق قانونی ترمیم کا مسودہ قانون قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیابلوچستان اسمبلی کا اجلاس قائم مقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی صدارت منعقد ہوا اجلاس میں موٹر وہیکل کا ترمیمی مسودہ قانون نمبر 24 مصدرہ 2022 صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نعیم بازئی نے پیش کیا جو کہ اسمبلی نے منظور کرلیا گیا بلوچستان کیڈٹ کالجز کا ترمیمی مسودہ قانون نمبر 25 مصدرہ 2022 صوبائی وزیر اسد بلوچ نے پیش کیا جسے قائمہ کمیٹی کے حوالے کردیا گیا جبکہ لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے ترمیمی مسودہ قانون نمبر 17 مصدرہ 2022 مجلس قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کو ایوان میں مشیر اقلیت خلیل جارج نے پیش کی جس پر اپوزیشن رکن نصراللہ زیرے نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی سے متعلق اعتماد میں نہیں لیا گیا قانون سازی سے ہماری قوم کو نقصان پہنچے گا مسودہ قانون پیش ہونے کے دوران نصراللہ زیرے کے طرف سے شور شرابہ کرنے پر قائم مقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے اسمبلی سرجنٹ سے کہے کر نصراللہ زیرے کو ایوان سے باہر بھیج دیا جسکے بعد مسودہ قانون ترمیمی لوکل گورنمنٹ کو منظور کر لیا گیا بعد ازاں سیلابی تباہ کاریوں سے متعلق مشترکہ سرکاری قرارداد صوبائی وزیر اسد بلوچ نے پیش کی قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ 2 جولائی سے صوبے کے تمام اضلاع میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے کئی گھر مال مویشی اور باغات سیلابی ریلوں کی نذر ہوچکے لہذا یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ وفاق سے 50 سے 60 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا مطالبہ کیا جائے قراداد پر بحث کرتے ہوئے اراکین نے اسمبلی نے کہا کہ بروقت ازالہ نہ کیا گیا تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے بلوچستان کے تمام اضلاع متاثر ہوئے ہیں آفت زدہ اضلاع میں فوری ریلیف کی اشد ضرورت ہے اس دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی مبین خلجی اور اپوزیشن اراکین میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا مبین خلجی نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں عوام سے معافی مانگیں کہ انہوں نے وزارتوں کیلئے سیاست کی ہے وزیر اعظم کے ساتھ گھنٹوں ملاقاتوں کی خبریں اور ویڈیوز تو آتی ہیں لیکن عملی اقدامات نظر نہیں آتے بحث کے بعد سیلابی صورتحال میں ہونیوالے نقصانات سے متعلق قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا دوسری قرارد بجلی کے بلوں میں اضافہ واپس لینے سے متعلق پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے پیش کی قراداد کے متن میں کہا گیا کہ بلوں میں اضافی ٹیکس کی ادائیگی صوبے کے غریب عوام کے دسترس سے باہر ہے ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ٹیکس کو فی الفور ختم کیا جائے جسکے بعد قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر رکن اسمبلی اصغر اچکزئی نے ہرنائی کے علاقے کھوسٹ میں سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے دوران فائرنگ واقعہ کے حوالے سے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہاکہ فائرنگ سے اے این پی کا کارکن شہید ہوا ہے پرامن احتجاج کرنیوالوں پر گولیاں چلائی گئیں آج تک ان علاقوں سے کوئی دہشتگرد نہیں پکڑا گیا کوئلے کا کاروبار کرنیوالوں سے بھتہ بھی لیا جا رہا ہے تحریک التواء پر بات کرتے ہوئے اراکین اسمبلی نصر اللہ زیرے ثناء بلوچ زمرک اچکزئی عبدالخالق ہزارہ و دیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مذمت کرتے ہیں زمرک اچکزئی نے قائم مقام اسپیکر سے کہا کہ وہ واقعہ پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی رولنگ دیں جس پر قائم مقام اسپیکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور مشیر داخلہ موجود نہیں سرکاری موقف کے بنا رولنگ نہیں دی جاسکتی اے این پی کے اراکین اسمبلی کے اسرار پر قائم مقام اسپیکر نے مشیر داخلہ کو اسمبلی بلانے کی رولنگ دیتے ہوئے تحریک التواء نمٹا دی اسمبلی کاروائی کے جاری رہنے تک مشیر داخلہ ضیاء لانگو اسمبلی نہیں آئے کاروائی کے بعد اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔


