فوج اکیلی ملک کو اکٹھا نہیں کرسکتی، فاشزم کی کلاسک مثال شہباز گل کا کیس ہے، عمران خان

اسلام آباد (انتخاب نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا انفلوائنسرز سے گفتگو میں حکومت سے بات چیت کی پیشکش مسترد کردی۔ سوشل میڈیا انفلوائنسرز سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھاکہ کرپٹ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات نہیں کرسکتا، ان لوگوں کےساتھ بیٹھنے کا مطلب کرپشن تسلیم کرنا ہوگا۔ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے، آرمی چیف کی تعیناتی پر ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ آرمی چیف کی تعیناتی ایشو بن جائے۔ ملک میں سیاسی استحکام سے معاشی استحکام آئے گا، فوج اکیلی ملک کو اکٹھا نہیں کرسکتی، فوج ملک کو اکٹھا کرسکتی تو مشرقی پاکستان نہ ٹوٹتا، ملک کو سیاسی جماعتیں اکٹھا کرتی ہیں اور اس وقت واحد قومی جماعت تحریک انصاف ہے۔ بھارتی اسرائیلی لابی میرے ہٹنے پر خوش ہوئی، قومی قیادت اسرائیلی بھارتی لابی کے پلان کے خلاف تھی۔ پنجاب حکومت صرف حمزہ شہباز کو ہٹانے کیلئے حاصل کی، وہ ہمارے لوگوں کیخلاف کارروائی کررہا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ پولیس حکام کیخلاف کارروائی کرتے ہیں تو چڑیا گھر سے کال آجاتی ہے۔ فاشزم کی کلاسک مثال شہباز گل کا کیس ہے، پولیس کہہ رہی ہے کہ شہباز گل پر ہم نے تشدد نہیں کیا تو پھر کس نے کیا؟ آج ریلی سے خطاب میں اہم باتیں کروں گا، شہباز گل نے اصغر خان کیس فیصلے سے ہٹ کر تو کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سازش ہورہی ہے پی ٹی آئی اور فوج میں تصادم ہو، اگر تصادم ہوا تو ملک میں خونریزی ہوگی، ہم سے نیوٹرلز اس مافیا حکومت کو تسلیم نہیں کراسکتے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ایک تعیناتی کی وجہ سے ملک میں یہ سب ہورہا ہے، ڈی جی آئی ایس آئی لگانے کا اختیار وزیر اعظم کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں