گیارہ سرکاری جامعات کیلئے صرف ڈھائی ارب روپے دینا مایوس کن ہے، جامعہ ایکشن کمیٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی،فرید اچکزئی،نعت اللہ کاکڑ اور گل جان کاکڑ نے اپنے مشترکہ تنقیدی بیان میں وزیر اعلی بلوچستان کی صدارت میں صوبے کے تمام سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے اجلاس میں صوبے کے گیارہ سرکاری جامعات کیلئے صرف ڈھائی ارب روپے ریلیز کر نے کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے 2022-23ء کے 700 ارب روپے کے بجٹ میں صوبے کی گیارہ سرکاری جامعات کیلئے صرف ڈھائی ارب روپے مختص کرنا صوبے کی اعلی تعلیمی اداروں خصوصا نوجوان نسل پر اعلی تعلیم کے دروازے بند کرنے اور جامعات کو پرائیویٹائزیشن کی جانب دھکیلنے کا منصوبہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مرکزی حکومت نے بھی سالانہ بجٹ میں دس ہزار ارب روپے کے بجٹ میں ملک بھر کی سرکاری جامعات کی ریکرنگ بجٹ کے لئے صرف 65ارب روپے رکھے ہیں اور 2017سے اس رقم میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا جبکہ مرکزی و صوبائی حکومت نے اس دوران تنخواہوں کی مد میں کئی گناہ اضافہ کیا اور دوسری طرف ہوشربا مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کردیاہے۔بیان میں اس اہم اجلاس میں وائس چانسلرز کی معذرت خواہانہ روپے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر حال میں وزیراعلی اور صوبائی حکومت کو صوبے کے سرکاری جامعات کیلئے کم ازکم دس ارب روپے مختص کرانیکیلئے قائل کرنا تھا۔ بیان میں صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ صوبے کی گیارہ جامعات کے لئے فوری طور پر دس ارب روپے ریلیز کرے اور مرکزی حکومت ملک بھر کی سرکاری جامعات کے لئے 150ارب روپے مختص کریں۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ، آفیسران و ملازمین کو مکمل تنخواہ کی فراہمی بقایاجات سمیت اور جامعات کو درپیش مالی بحران کے مستقل حل تک احتجاجی تحریک جاری رہیگا اس ضمن میں 22اگست بروز سوموار کو جامعہ بلوچستان میں مکمل ہرتال، احتجاجی مظاہرہ اور وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا ھوگا.تمام اساتذہ،آفیسرز اور ملازمین زیادہ سے زیادہ تعداد اپنی شرکت یقینی بنائے۔


