کوہلو میں سیلاب سے درجنوں کچے مکانات منہدم، سینکڑوں افراد بے گھر
کوہلو (انتخاب نیوز) ضلع کوہلو میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری موسلادھار بارشوں نے ضلع نے تباہی مچادی ہے۔ضلع کے نواحی علاقے نیصوبہ میں بلاول ٹاؤن،کلی جمعہ خان،اوریانی سمیت مختلف علاقے سیلابی ریلے کی زد میں آخر مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ بارشوں سے ضلع کے شہری و دیہی علاقوں،پیپلز کالونی،مری کالونی،مدینہ کالونی،تمبو،بوہڑی،گرسنی،سنجاڑ،ملک زئی،گاڑداواغ،لاسے زئی،ماوند سمیت مختلف علاقوں میں درجنوں کچے مکانات منہدم ہونے سے سینکڑوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کہی متاثرین سرکاری عمارتوں میں شفٹ ہوکر جان بچانے لگے ہیں تو کہی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پلاسٹک سے خیمے اور جھونپڑیاں بنا لی ہیں ضلع میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے اب تک مختلف واقعات میں 9افراد جاں بحق جبکہ 26افراد زخمی ہوئے ہیں ضلع کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں کی زد میں آکر 3500سے زائد مال مویشاں ہلاک ہوچکی ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر محیط کپاس،ٹماٹر کی کھڑی فصلیں بھی حالیہ بارشوں کی زد میں آکر مکمل طور پر بہہ گئیں جس کی وجہ سے ضلع میں مالداروں اور کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے حالیہ بارشوں سے بے گھر ہونے والوں کے کیلئے ضلعی انتظامیہ اور ایف سی کی جانب سے مختلف مقامات پر ریلیف کیمپ بنائے گئیں ہیں جہاں انہیں راشن اور دیگر اشیاء ضروریہ فراہم کیا جارہا ہے اس وقت ضلع کے مختلف علاقوں کی نگرانی حلقے کے منتخب صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری خود کررہے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 16ٹیمیں مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں اب تک ضلع بھر میں پی ڈی ایم اے اور ڈی ڈی ایم اے نے 700سے زائد خاندانوں کو راشن جبکہ 500افراد کو خیمے فراہم کئے ہیں رسالدار میجر شیر محمد مری کی نگرانی میں لیویز فورس متحرک اور مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب حکومتی امدادی ریلیف کے باوجود ضلع کے مختلف علاقوں میں کہی متاثرین احتجاج تو کہی وہ حکومتی امداد کے منتظر ہیں اور لوگوں نے عوامی و حکومتی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر خیمے مہا کئے جائیں تاکہ انہیں سر چھپانے کیلئے جگہ مل سکے۔


