مریم اور میں ایک پیج پر ہیں، شہباز شریف اور مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں، نواز شریف
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) لندن میں نواز شریف سے نجی ٹی وی کے رپورٹر کی ملاقات۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ ن لیگی رہنماؤں کا اپنی ہی حکومت کیخلاف اپوزیشن کا کردار حیرت کا باعث ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ حکومت نہ لیں اور الیکشن کی جانب سے جائیں۔ معاشی پالیسی کیلئے مفتاح اسماعیل پر اعتماد نہیں، اچھی معاشی پالیسی کیلئے اسحاق ڈار بہترین شخصیت ہیں۔ ن لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ شہباز شریف کس قسام کی پالیسیاں چلا رہے ہیں، عوام کے سامنے خود آنا چاہیے، اقتصادی پالیسیوں اور مہنگائی کے بارے میں عوام کو آگاہی دیں۔ عدالتوں کی جانب سے انصاف نہ دیے جانے،عدالت میں کیسز نہ سنے جانے اور التوا کا شکار مقدمات کیخلاف جلد لائحہ عمل طے کروں گا۔ ججوں کی جانب سے متنازع اور خلاف فیصلے دینا بھی ججوں کی ذاتیات ہے۔ اسٹیلشمنٹ کا عمران خان کیخلاف ہونا عمران کا اپنا کیا دھرا ہے۔ شہباز گل کو درپیش معاملات پی ٹی آئی کے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ عمران خان اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں۔ عمران خان سب سے بڑا فاشسٹ ہے اس سے پہلے نمنٹا ہوگا بعد میں ڈیموکریسی پر معاملات دیکھیں گے۔ شہباز شریف کو اپنی پالیسی ریویو کرنا چاہیے۔ مریم اور میں ایک پیج پر ہیں جبکہ شہباز شریف اور حکومت میں شامل ن لیگ الگ پیج پر ہیں۔ مفاہمانہ بیانیہ عدلیہ کیخلاف بنایا جائے گا، عدلیہ نے ساری سیاست کو گدلا کیا اور مجھے ریلیف بھی نہیں دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان کیخلاف ہونے پر اطمینان ہے۔ مفاہمت اور مزاحمت کے بیانیے پر سوچنا ہوگا، ان کو مفاہمت کے بیانیے پر چلنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنا ہوں گے۔ عمران خان نے جیلیں نہیں دیکھیں، پولیس کی لاٹھی چارج کا مقابلہ نہیں کرسکتے، آنسو گیس نہیں برداشت کرسکتے، پی ٹی آئی کا سیاسی مجمع اتنا مضبوط نہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرسکے۔عمران خان کا انتخابات کے جلد انعقاد اور آرمی چیف کے معاملے پر حکمران جماعت سے شدید اختلاف ہے۔


