کوئٹہ، گورنمنٹ ٹیچرز بلوچستان کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کو 25 روز مکمل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسو سی ایشن آئینی بلو چستان کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی اساتذہ کا مطالبات کے حل کے لئے احتجاجی 25ویں روز بھی جا ری رہا، بھوک ہڑ تالی کیمپ کے قائدین منظورراہی بلو چ اور عنایت اللہ کاکڑ سول ہسپتال کوئٹہ کے آئی سی یو سر جیکل وارڈز میں زند گی اور موت کے کشمکش کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مر تبہ پھر قبائلی معاشرے میں اپنے قائدین کے ساتھ یکجہتی او راساتذہ کے مطالبات کے حل کے لئے خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد اپنے مرک احتجاجی اساتذہ کے ساتھ جلسہ، جلوس اور ریلی میں شانہ بشانہ رہے لیکن حکومت میں شامل قبائلی روایات کے دعویدارعوامی نمائند گان بند ستور خا موش اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کی کوششوں میں مصروف رہے جوکہ انتہائی افسوناک امر ہے۔ مرد خواتین کا احتجاجی جلوس کے شرکاء جی پی او چوک پہنچے اور مطالبات کی منظوری کے لئے دھرنا دیا جس سے ٹریفک متاثرہ رہی۔ بعد ازاں ریلی انسکمب روڈ، شارع اقبال، عدالت روڈ سے ہو تی ہوئی پریس کلب پہنچی جہاں پھر پور احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جس پر اساتذہ کے مطالبات جو نیئر اساتذہ کی اپ گریڈیشن، ٹائم سکیل انجماد کا خاتمہ، ٹیچنگ الاؤنس میں اضافہ، ایس ایس ٹیز ٹائم سکیل کی تشکیل نو اور دیگر مطالبات کی منظوری کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے حکومت اور بیور کریسی کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے خطاب کر تے ہوئے سیکر ٹری جنرل قادر بخش رئیسانی، عزیز آغا ودیگر نے کہا کہ حکومت خواب خرگوش سے جاگ کر اساتذہ کے مطالبات کا حل نکالیں اور ان غلط فہمی میں نہ رہے کہ جی ٹی اے آئینی مطالبات کے حصول کے لئے جدو جہد دستبر دار نہیں ہوگی، کیمپ سے صوبائی قائد ین کی لاشیں تو اٹھ سکتی ہیں لیکن خالی ہاتھ اٹھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمیں جو بھی نقصان پہنچا اسکی تمام تر ذمہ دار ی حکو مت بلو چستان پر عائد ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں