سیلابی صورتحال میں خدمت انسانیت

تحریر: ابوبکر دانش بلوچ
ارشاد باری تعالیٰ ہے بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہی ہیں۔ یہ صدقہ ثواب کے اعتبار سے ان کیلئے بڑھا دیا جائے گا۔ (الحدید ۱۹) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے قرض حسن کا مطالبہ کیا ہے۔قرض دراصل یہ ہے کہ اللہ کا محتاج، ضرورت مند اور بے کس بندوں کی مدد کی جائے۔ چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آدم علیہ السلام کی اولاد سے فرمائے گا کہ اے ابن آدم!میں بیمار پڑا تھا تو نے میر ی خبر نہیں لی! بندہ عرض کرے گا اے میرے پرور دگار!میں کیسے تیری تیمارداری اور بیمار پر سی کرتا؟تو تو رب العالمین ہے۔اللہ فرمائے گا: کیا تجھے علم نہیں ہو ا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا تھا تونے اس کی عیادت نہیں کی، کیا تجھے معلوم نہیں تھا اگر تو اس کی خبرلیتا اور تیمارداری کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے مجھے نہیں کھلایا۔ بندہ عرض کرے گا اے خدا وند میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟تو تو رب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تو نے اس کو کھانا نہیں دیا۔ کیا تجھے علم نہیں۔اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو اس کو میرے پاس پالیتا۔اے ابن آدم میں نے پینے کے لئے پانی تجھ سے مانگا تھا۔تو مجھے پانی نہیں پلایا۔بندہ عرض کرے گا میں تجھے پانی کیسے پلاتا؟ تو تورب العالمین ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا تو نے اس کو نہیں پلایا۔اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو اس کو میرے پاس پالیتا۔ (مسلم) محتاج بندوں پر صرف کرنا بے سہاروں کو سہارا دینا اور کسی کار خیر میں حصہ لینا ثواب کا کام اور اجر عظیم کے مستحق ہے۔ نیز یہ عنداللہ حصول تقرب کا ذریعہ اور عبدیت سے قریب ہے۔ البتہ یہ فضائل زکوۃ کے علاوہ مال خرچ کرنے کے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: صحابہ کرامؓ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں دریافت فرمایا تو وحی نازل ہوئی، لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ انفاق فی سبیل اللہ کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیجئے، جو ضرورت سے زائد ہو۔ (البقرۃ ۲۱۹) اپنی ضرورت، اپنے اہل وعیال، ماتحت میں رہنے والے افراد نیز دیگر لوازمات کی تکمیل کے بعد بقیہ رقم کو بے کسوں پر صرف کرنا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے تقرب حاصل کرنے کے لئے اپنا محبوب اموال کو راہ خدا میں صرف کیا جائے، چنانچہ سورۃ ال عمران میں موجود ہے، اے مسلمانوں!”تم خیر کامل کو کبھی حاصل نہ کر سکو گے یہاں تک کہ اپنی پیاری چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو اور جو کچھ بھی خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔“ تو صحابہ کرامؓ نے اپنے اپنے پسندیدہ مال پر نظر ڈالی اور اللہ کے راستے میں اسے صدقہ کردیا۔ کسی نے اپنے باغ کو، تو کسی نے چشمہ کو، تو کسی نے گھوڑے کو، تو کسی نے باندی اور غلام کو آزاد کردیا تاکہ انسانوں کی بھلائی اور بے کسوں کی بے کسی سے نجات حاصل ہو جائے اور آسانی سے اپنی ضرورت کو پوری کرلیں۔
اسلام نے مسلمانوں کو دوسروں کے ساتھ بھلائی کی ترغیب دی ہے اور قدم قدم پر رہنمائی کی ہے، بھوکوں کو کھانا کھلانا، پیاسوں کو پانی پلانا،ننگوں کو کپڑا پہنانا۔کھلے آسمان کے نیچے تپتی زمین اور چلچلاتی دھوپ،کڑاکے کی سردی سے مجبوروں کو بچانے کے لئے کام کرنا عنداللہ محبوب ہے اور اس کا بڑا ثواب ہے اور اس سے اللہ کا تقرب حاصل ہوگا۔ رسولؐ نے ارشاد فرمایا: جو کسی مسلمان کی دنیوی تکالیف و پریشانی دور کرے گا، اللہ قیامت کے دن کی تکالیف و پریشانی سے اس کو نجات دے گا۔ جو شخص کسی تنگ دست کو سہولت دیگا اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کے ساتھ پردہ پوشی کرے گا اللہ دنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جو بندہ جب تک اپنی کسی بھائی کا امداد واعانت کرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہے گا۔ (ترمذی) رسول ؐ نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان کسی برہنہ مسلمان کو کپڑا پہنائے، اللہ تعالیٰ جنت کے سبز جوڑے عطا کرے گا۔ جو مسلمان کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ جنت کے پھل اور میوے کھلائے گا۔ جو مسلمان کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اس کو شراب طہور پلائے گا۔ جس پر جنت کی مہر لگی ہوگی۔ (معارف الحدیث) اس طرح اپنے بھائی کی مدد کرنا ملی و اخلاقی فریضہ ہے۔ ایک موقع پر رسول صلی اللہ علیہ نے فرمایا: جو مسلمان اپنے ضرورت مند مسلمان بھائی کو کپڑا پہناتا ہے تو اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک اس کپڑا کا ایک چتھڑا بھی اس کے تن پر رہتا ہے۔ (مشکوۃ)
پاکستان سمیت بلوچستان کے تقریباً بہت سے اضلاع میں سیلاب کا قہر جاری ہے جو قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔جس پر سو شل میڈیا، پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا نیز دیگر ذرائع ابلاغ سے خبر یں شائع ہو رہی ہیں۔ بلکہ بعض لوگوں نے آنکھوں دیکھا حال بھی بیان کیا ہے۔ جس کو سن کر بدن کانپ جاتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے ان کے آشیانے اجڑ رہے ہیں،خورونوش کے سامان،مویشی اور دیگر املاک کو خس و خاشاک کی طرح سیلاب کی پانی بہا کر لے جارہے ہیں۔ ”بندے دیکھتے کیا نہ کرتے“کہ کچھ نہ کر پائے بہ مشکل تو اپنی جان بچائی، پھر بھی سینکڑوں افراد تو سیلاب کے لقمہ اجل بن گئے۔ متاثرین مایوس نگاہوں سے دیکھتے رہے، پر خون کے آنسو بہانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اب سب کچھ کھو جانے کے بعد سیلاب زدگان سڑکوں، ٹیلوں اور دوسرے محفوظ مقام پر پناہ گزین ہیں۔ ادھر اپنی قیمتی املاک ضائع ہونے کا غم ہے تو ادھر بھوک و پیاس کی شدت، چلچلاتی دھوپ اور بارش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ اور نہ فرش پر بچھانے کے لئے کوئی بچھونا، بچے بھوک و پیاس کی شدت سے تلملا رہے ہیں تو ماؤں کے سینے میں دودھ خشک ہو چکا ہے، تو نوجوانوں کی آنکھوں سے آنسو ختم ہوچکے ہیں، مفلسی ہی مفلسی، کسی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اللہ کے رسول ؐ نے ارشاد فرمایا ہر بھلائی کا کام صدقہ ہے۔ (مشکوۃ) مجبور بے کس لوگوں کی مدد کرنا مال میں برکت کا سبب ہے۔ بلکہ ملائکہ خرچ کرنے والوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے: ہر روز جب بندوں پر صبح کا وقت آتا ہے تو ملائکہ کا نزول ہوتا ہے، ان میں سے ایک یہ دعا کرتا ہے، اے اللہ!خرچ کرنے والو ں کو بدلہ عنایت فرما اور دوسرا یوں کہتا ہے اے اللہ! مال روکے رکھنے والو ں سے دو چار فرما۔ (مشکوۃ) ایسی حالت میں امت مسلمہ کے ہر فرد کو چاہیئے کہ ان کا تعاون کریں، ان کا سہارا بنیں، ان کی پریشانی کو اپنی پریشانی تصور کریں۔ ان کے غم کو مٹانے کی فکر کریں۔ ان کے گھر بسانے کے لئے آگے آئیں، کھانے پینے کے سامان کا انتظام کریں جن کے عزیز و اقارب سیلاب کی زد میں آگئے، ان سے تسلی کی باتیں کریں۔ بلکہ ایسے موقع پر بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور امداد و اعانت کریں نیز نا مساعد حالت کے موقع پر مذہب اسلام نے قومی یکجہتی اور رواداری کو آگے بڑھانے کا حکم فرمایا ہے۔ ایسے موقع پر انسانیت کی بنیاد پر کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ مسلمان بھائی کی مدد کرنا قابل تحسین واجرعظیم کا باعث ہے۔ تو انسانیت کی بنیادپر تمام انسانوں کے ساتھ ہمدردی کرنا بھی لائق تحسین ہے۔ اس لئے ایسے موقع پر انسانیت کی بنیاد پر خدمت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔