اپنی جدوجہد کو ریڈ زون منتقل کرنے پر بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کو سلام ہے، حاجی لشکری
سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جدوجہد کو ریڈ زون منتقل کیا، وہ کئی سال سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں وہ ایک دن ضرور کامیاب ہوں گی، جو مائیں بہنیں سال سے احتجاج پر ہیں ان کو ریلیف فراہم کرنا انسانی و اخلاقی تقاضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چالیس دن سے لاپتہ افراد کے لواحقین ریڈ زون کے سامنے بیٹھے ہیں اور وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس یہاں سے چالیس قدم کے فاصلے پر ہیں جس کا مطلب یہ عوام کے نمائندے نہیں انہیں عوام پر مسلط کیا گیا ہے اس لیے یہاں نہیں آسکتے۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء میں آئین بنایا گیا جس پر 2010ء میں نظرثانی کی گئی۔ اس آئین میں بھی بنیادی اور انسانی حقوق کی شقیں موجود ہیں مگر بلوچستان میں انسانی حقوق کے چارٹر اور نہ ہی آئین پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل کی لوٹ مار کے بلوچستان اسمبلی کے فیصلے کو قطعاً قبول نہیں کریں گے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں سیاست کے نام پر اقتدار میں آنے والوں، سیاست کے نام پر ٹھیکیداری اور اپنی سیاست کو فروخت کرکے موجودہ حکومت کو مسلط کرنے والوں سے نہیں بلکہ حقیقی سیاسی کارکنوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس دھرنے میں آکر ماؤں بہنوں کا ساتھ دیں۔


