کوئٹہ، سرکاری اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کے 31 روز، خواتین اساتذہ کی احتجاجی ریلی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان،اساتذہ کے تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے اساتذہ قائدین کا تادم مرگ بھوک ہڑتال 31ویں روز بھی جاری رہا،تعلیم واساتذہ دشمن صوبائی حکومت کی بے حسی اور ہٹ دھرمی بدستور برقرار،اساتذہ قائدین کی تشویشناک حالت دیکھ کر اساتذہ وعوامی حلقوں میں اشتعال اور بے چینی،منظور بلوچ،عنایت کاکڑ،سعید ناصر ہسپتال میں زیر علاج مجیب اللہ غرشین،نعیم کاکڑ،ناصر مینگل،میر احمد شاہد بنگلزئی اور قاسم خان اچکزئی کو بھوک ہڑتالی کیمپ میں میڈیکل ٹیم نے طبی امداد فراہم کی،شدید بخار،سردرد،تھکاوٹ،بلڈ پریشر،شوگر اور اعصابی طورپر اساتذہ کمزور ہوئے ہیں گزشتہ روز اساتذہ مطالبات کے حق میں احتجاجی جلوس میونسپل کارپوریشن کوئٹہ کے سبزہ زار سے نکل کر مختلف شاہراہوں انکمب روڈ،کمشنر آفس کے سامنے سے گزرتے ہوئے جناح روڈ سے ہوتے ہوئے منان چوک پر احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوا،چوک کو چاروں طرف سے بند کر اکے اساتذہ وملازمین تنظیموں کے قائدین حاجی خان زمان،قاسم خان کاکڑ،کامریڈ نذر مینگل اور خواتین اساتذہ نے خطاب کیا،مقررین نے خطاب میں کہاکہ اساتذہ اپنے جائز اور تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد کیلئے اکتیس روز سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر ہیں،صوبائی حکومت کی مسلسل ہٹ دھرمی اور بے حسی سے ظاہر ہورہاہے کہ انہیں صوبے کے نظام تعلیم اور اساتذہ کے مسائل اور مطالبات میں کوئی دلچسپی نہیں،تمام ملازمین تنظیموں،سیاسی جماعتوں،تاجر تنظیموں،بارکونسل وکلاء برادری وسول سوسائٹی کی بھر پور حمایت اساتذہ کو حاصل ہے،اساتذہ حقوق لے کر رہیں گے جب ملک کے دیگر صوبوں بشمول وفاق وآزاد کشمیر کے اساتذہ ایگریڈ ہوچکے ہیں تو بلوچستان کے اساتذہ کا بھی حق بنتا ہے کہ انہیں فوری طورپر ایگریڈ کیا جائے ایک ملک میں دو قانون نہیں مانتے،اور نہ ہی حکومت کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ اساتذہ کا معاشی استحصال کرکے پسماندہ صوبے کی نظام تعلیم بربادی کی طرف لے چلیں،صوبے کے اصل مالک ہم ہیں ایوانوں میں بیٹھنے نام نہاد حکمران تو چند روز کے مہمان ہیں،علاوہ ازیں آج ملازمین اتحاد اور جی ٹی اے آئینی بلوچستان نے اہم اجلاس طلب کئے ہیں جس میں آئندہ کیلئے سخت لائحہ عمل اور اہم فیصلے متوقع ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں