بلوچستان میں سیلاب سے پیدا المیے پر جعلی صوبائی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی، حاجی لشکری
کوئٹہ (انتخاب نیوز) سینئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت بہت بڑے بحران اور ایک انسانی المیے سے دوچار اور متاثرین بے یارو مدد گار پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو نصیرآباد، کچھی اور بھاگ ناڑی کے مختلف وفود سے سراوان ہاﺅس میں بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے اکثر علاقے زیر آب ہیں اور غذائی قلت کے باعث بدترین مشکلات کا شکار ہیں، ایسی بھی خبریں سننے میں آرہی ہیں کہ بچے غذا نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں، ایسی حالت میں جعلی صوبائی حکومت اور اس کے پس پردہ اتحادی اور حمایتی زمین پر کہیں بھی نظر نہیں آرہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکومت کو صرف اس لئے مسلط کیا گیا کہ بلوچستان کے مستقبل ریکوڈک کو فروخت کرے۔ انہوں نے وفاقی حکومت، اقوام متحدہ، صوبے بھر کے سیاسی کارکنوں، مخیر حضرات، سماجی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ فوراً بلوچستان میں اپنی امدادی کارروائیاں شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال نے واضح کردیا کہ جو پارٹیاں راتوں رات بنتی ہیں وہ ہمارے مسائل کا حل نہیں بلکہ وہ سیاسی لوگ جن کے پاس واضح ایجنڈا اور پروگرام ہے وہی بلوچستان کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں۔


