بی این پی نے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کو ہمیشہ ترجیح دی، ڈاکٹر جہانزیب

دالبندین (انتخاب نیوز) کارکن پارٹی کے سرمایہ ہیں آمرانہ دور میں بنیادی کارکنوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے حقیقی معنوں میں جدوجہد کی، لاپتہ افراد کا معاملہ اہم مسئلہ ہے، پارٹی نے ہمیشہ ہر فورم پر سب سے پہلے لاپتہ افراد کی بازیابی کو ترجیح دی ہے۔ سیلاب متاثرین کی فوری بحالی ممکن بنائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے بی این پی ڈسٹرکٹ چاغی کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری محمد بخش بلوچ اور سابق ضلعی نائب صدر شیر دل سمالانی سے کوئٹہ میں اپنے رہائش گاہ میں بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ اپنے دور میں ضلع چاغی میں کئی ڈیمز کے علاہ یونین کونسل آمری میں ایک ہزار انرجی سولر کٹس مہیا کیے ہمیشہ سے بلوچستان کے لوگوں کے خوشحالی کیلئے جدوجہد کی ہے اور اپنی بساط کے مطابق بلا غرض و بلا مقصد بلوچستان کے تمام علاقوں کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اور پارٹی نے ہمیشہ لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، پارٹی کارکنان پارٹی کے سرمایہ ہیں یہی بنیادی کارکنوں نے سخت ترین حالات کا مقابلہ کرکے ثابت قدم رہے اور انہی دوستوں کے مسلسل جدوجہد کی بدولت آج پارٹی بلوچستان کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے، مختلف ادوار میں پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے نت نئے حربے استعمال ہوئے مگر فکری دوستوں نے تمام تر حربوں کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے بلوچستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور اس سیلاب سے کوئی بھی طبقہ نہیں بچا مال مویشی سمیت لوگوں کے گھر تباہ ہوئے سینکڑوں جانیں ضائع ہوئے زمینداروں کو اربوں روپوں کا نقصان ہوا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوگئی مگر افسوس کہ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے جو ادارے بنائے گئے ہیں این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے وہ متاثرین کی بروقت بحالی میں ناکام ہوچکے ہیں وفاقی و صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی فوری بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جدید دور میں ہم گیس بجلی کے صرف ایک لائن پہ گزارا کر رہے ہیں اس طرح کے سیلابی صورتحال سے قبل حکومتوں کو اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ڈیرہ اللہ یار کوئٹہ رتو ڈیرو خضدار ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئٹہ کیلئے گیس اور بجلی کے مختلف پائپ لائن اور بجلی کے لائن ہونے چاہیے تاکہ اس طرح کے حالات کے پیشِ نظر لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا نہ پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں