آٹے کا بحران بلوچستان حکومت کی نااہلی ہے، محکمہ خوراک گندم اسمگل کردیتا ہے، پاکستان فلور ملز

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پاکستان فلور مل ایسوسی ایشن کے سابق صدر بدرالدین کاکڑ نے کہاہے کہ بلوچستان میں آٹے کا بحران صوبائی حکومت کی نااہلی ہے،اپنی نااہلی چھپانے کیلئے عوام اور فلور مالکان کو لڑانے کی کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے،جب تک چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور صوبائی وزیر خوراک زمرک اچکزئی خود نہیں آئیں گے اس وقت تک ہم احتجاج ختم نہیں کرینگے،فلور مل مالکان عوام کو آٹے کی سپلائی بند نہیں کرینگے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیگر عہدیداران و ممبران بلوچستان فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان ریجن کے ہمرا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،بدر الدین کاکڑنے کہاکہ میڈیا کو فلور مل میں بلانے کا مقصد بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور فلور مل مالکان کو درپیش مسائل سے آپ کو آگا ہ کرنا ہے،انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی ناہلی کی وجہ سے صوبے میں آٹے کی بحران پیدا ہواہے،نہری علاقوں میں ضلع کی سطح پر پابندی لگا کر ہمیں گندم کی خریداری سے روک دیا،دوسری جانب محکمہ خوراک نے تمام گندم سندھ اسمگل کردیا،جب تک چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی خود آکر یقین دہانی نہیں کرتے اس وقت تک ہم سرکاری گندم نہیں اٹھائیں گے،وزیراعلی بلوچستان کو چاہیے کہ وہ وزیراعظم شہبا شریف سے بات کرکے پاسکو کے ذریعے جس طرح خیبر پختونخوا،آزاد کشمیر اور سندھ میں گندم کیلئے رابطہ کیا تین سو بوری فلور ملوکو گندم کی فراہمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے،حکومت بلوچستان کا مقصد اپنی نا اہلی چھپا کر عوام اور فلو مل مالکان کو لڑانے کی سازش ہے جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے،فلور مل ایسوسی ایشن کوشش کرے گی کہ عوام کو آٹے کی فراہمی کو یقینی بنائیں،ایک سوال کے جواب میں بدر الدین کاکڑ نے کہاکہ محکمہ خوراک اپنی نا اہلی چھپانے کیلئے اس طرح کے ڈرامے کررہے ہیں،آج کے پریس کانفرنس کا مقصد آپ کو بلاکر تمام صورتحال سے آگاہ کرنا ہے،انہوں نے مزید کہاکہ بلو چستان میں اس وقت عوام کوبد ترین مہنگا ئی کا سامنا ہیں جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضا فہ نے عوام کے اوسان خطا کر دئیے ہیں وہی اشیا ئے خوردنی اور خاص گندم اور آٹے جیسے بنیا دی ضروریات زندگی کا حصول عوام کے لئے نا ممکن بنا دیا گیا ہے،ایک طرف حکومتی حکام خود یہ مان رہے ہیں کہ بلو چستان میں 75فیصد لو گ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں تو دوسری جا نب وفا قی اور صو با ئی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے بلو چستان کی عوام ملک کے دیگر صو بوں کے مقابلے میں مہنگا آٹا اور گندم خریدنے پر مجبور ہیں کیو نکہ یہاں صو بے کے دور دراز علاقوں اور اضلا ع میں گندم کی قلت پیدا کر دی گئی ہے بلکہ صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میں بھی عوام کو آٹا اور گندم کے حصول میں مشکلات درپیش ہیں،ایک سوال کے جواب میں کہاکہ گندم اور آٹا کی قیمتوں میں اضافے نے معاشرے کے ہر فرد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ اس بابت کبھی فلور ملز تو کبھی کسی اور کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ عین زرعی سیزن میں صوبائی حکومت نے نا صرف گندم کی نقل و حمل پر بین الصوبائی اور بین الاضلاعی پا بندی عائد کر دی جس کی وجہ سے فلور ملز مالکان بلوچستان کے نہری علاقوں سے گندم لانے میں ناکام رہے بلکہ جب ہم گندم کی گاڑیاں لوڈ کر کے روانہ کرتے تو مختلف اضلاع میں ان کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی جاتی اس سلسلے میں ہم نے خدشات حکام بالا تک پہنچائے جس پر وزیراعظم اور پھر وزیر اعلی بلوچستان نے گندم کی آزادانہ نقل و حمل بارے احکامات صادر کئے مگر اس کے با وجود بھی کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں کسٹم و دیگر قانون نافذکر نے والے اداروں نے گاڑیوں کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھا جس پر ہم نے صدائے حق بلند کی، ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کو ماہانہ بنیادوں پر 16 لاکھ بوری گندم کی ضرورت ہیں مگر صوبائی حکومت اور محکمہ خوراک بلوچستان کی جانب سے پورے سال میں 10لاکھ بوری گندم کی خریداری کا اعلان کیا گیا جس کی صوبائی کابینہ نے منظوری بھی دی مگر مذکورہ 10 لاکھ بوری گندم کی خریداری میں بھی لیے و لعل سے کام لیا گیا اور اب تک اس کی خریداری نہیں کی جا سکی ہے اس سلسلے میں ہمارے اخباری بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں اب جب ملک بھر اور خاص کر بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے بعد جب تمام بڑی شاہرائیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں میں بلوچستان میں گندم کی طلب اور رسد میں بہت بڑی خلا پیدا ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں موجودہ حالات کا سامنا ہے،ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ سوشل میڈیا و دیگر کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ حالیہ بحران کے پیچھے فلور ملز مالکان اور ہماری ایسوسی ایشن ہے جو کہ درست نہیں آج آپ کو انڈسٹریل ایریا بلا کر پریس کانفرنس کرنے کا مقصد آپ میڈیا نمائندوں کو فلور ملز دکھانا ہے،انہوں نے کہاکہ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حکومت اور وزارت خوراک بلوچستان کی جانب سے یومیہ بنیادوں پر ہر فلور مل کو صرف 300بوری گندم دی جا رہی ہے جو کافی نہیں بلکہ اس کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ فلور ملز مالکان اور عوام باہم دست و گریبان ہو ایک طرف حکومت اور وزارت خوراک نے زرعی سیزن میں گندم کی نقل و حمل پر پابندی عائد کی اور دوسری جانب خود گندم کی خریداری نہیں کی جس کی وجہ سے موجودہ حالات پیدا ہوئے بلکہ گندم کی بین الصوبائی اور بین الاضلاعی نقل و حمل پر پابندی لگا کر بلوچستان کے نہری علاقوں سے گندم کو سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں میں اسمگل کر دیا گیا اب جب بلوچستان میں گندم کی کمی کا ہمیں سامنا ہے تو ایسے میں سندھ اور پنجاب کی جانب سے سیلاب سے گندم کے ذخائر کے ضائع ہونے کا کہا جا رہا ہے حکومت نے پاسکو سے گندم کی خریداری کی بات کی ہے مگر عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں اسی لئے ہم نے گزشتہ روزہنگا می اجلاس بلا کر فیصلہ کیا ہے کہ اب بلوچستان بھر میں فلور ملز مالکان اس وقت تک سرکاری گندم نہیں اٹھائیں گے جب تک چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور صوبائی وزیر خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی ہمارے تحفظات دور نہیں کرتے ہم عوام کو اپنے طور پر گندم اور آٹا فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش جاری رکھیں گے مگر حکومت کی جانب سے دی جانے والی گندم جو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے کو تحفظات کے خاتمہ تک نہیں اٹھائیں گے،ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم فلور ملز مالکان چیف سیکرٹری بلوچستان اور صوبائی وزیر خوراک بلوچستان کے علاوہ وزارت خوراک کے حکام سے بالکل بھی گفت و شنید نہیں کریں گے کیونکہ ان کے غیر ذمہ دارانہ رویہ موجودہ حالات کا سبب بنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں