سیلاب زدہ علاقوں میں ادویات اور ڈاکٹر نہ ہونے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں، بی وائے سی کراچی

کراچی (انتخاب نیوز) نصیر آباد ریجن کے بارے میں بارہا ہمیں یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ وہاں حالات کافی گمبھیر ہیں۔ موت کبھی سیلاب سے تو کبھی بھوک سے رقص کررہی ہے۔ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن بلوچستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں واضح ہے کہ نصیر آباد ریجن میں ملیریا بریک آؤٹ ہوگیا ہے اور اگر بروقت نوٹس نہ لیا تو حالات بد سے بد تر ہوتے جائیں گے۔ سوشل ایکٹیوٹس کی جانب سے بھی اطلاعات ہیں کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ان علاقوں میں بالکل ناکام ہوچکا ہے۔ بی وائے سی (کراچی) کی ٹیم سندھ کے علاقوں سے ہوتے ہوئے جھل مگسی، جعفر آباد تک پہنچی تو بے بسی سے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ سر پر چھت نہیں، کھانے کو کچھ نہیں اور بیماریاں جان لینے کو تیار کھڑی ہیں۔ ہم ایک ادارہ ہیں جو کوشش کر کے سیلاب زدہ علاقوں میں فقط فرسٹ ایڈ کر سکتی ہیں لیکن ان کے گھر، مستقل کھانے اور بیماریوں سے لڑنے کا کیا؟ بلوچستان کے علاقے قلات، مستونگ، نوشکی، خضدار تو تباہ ہیں ہی لیکن بی وائے سی (کراچی) کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ سبّی، بولان اور نصیرآباد ریجن کس برباد صورتحال سے دو چار ہیں اور حکومتی ریسپانس ان علاقوں میں کیسا ہے۔ بلوچستان حکومت کو عالمی اور علاقائی بہت امداد موصول ہوئی ہے لیکن یہ امداد علاقوں میں نظر نہیں آرہی اور غربت، لاچاری اذیت ناک ہوتی جا رہی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی عالمی مسئلہ ہے اور اس وقت بلوچستان اس سے دو چار ہے۔ بارشوں کے بعد سے اس وقت نصیر آباد ریجن میں جلا دینے والی گرمی ہے اور پھر دو مہینوں بعد سردیوں کا موسم تمام کسر نکال دیگا۔ عوام بے یار و مدد گار روڈوں پر پڑے ہیں۔ ان علاقوں میں حاملہ عورتیں اس وقت سب سے زیادہ مشکل وقت دیکھ رہی ہیں۔ زندگیاں جو موجود ہیں اور جو آنے والی ہیں سب سرمایہ دار سمیت جاگیر داری کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر بھی رو رہے ہیں کہ ڈاکٹر نہیں ہیں۔ پورے پاکستان میں سیلاب زدگان کو ریلیف دینے کے لئے ڈاکٹر نہیں ہیں؟ بی وائے سی (کراچی) نے ڈاکٹروں کا مسئلہ تب اجاگر کیا تھا جب ایک مہینہ پہلے بیلہ اوتھل متاثر ہوئے تھے اور وہاں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ تھا۔ ایک مہینہ گزرنے کے باوجود اب تک بلوچستان ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ناکام کیوں ہے؟ بلوچستان معاشی لحاظ سے پہلے سے پسماندہ علاقہ ہے اور اب یہ سیلاب زندگیاں اجیرن کر دیگا۔ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ سیلاب زدہ علاقوں میں ادویات، ڈاکٹر، ٹینٹ اور کھانے کا ہے۔ بلوچستان حکومت کو چاہئے کہ اب ڈائیلاگ کم اور کام زیادہ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں