بھارت میں یونیورسٹی طالبات کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے پر 8 لڑکیوں کی خودکشی کی کوشش
موہالی(صباح نیوز)بھارت کے شہر موہالی میں واقع ایک یونیوسٹی کے ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کم از کم 8 لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق موہالی میں واقع چندی گڑھ یونیورسٹی نامی نجی تعلیمی ادارے کے ہاسٹل میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات اس وقت ہنگامہ شروع ہوا جب وہاں رہنے والی طالبات کو معلوم ہوا کہ ہاسٹل کی 60 طالبات کی نازیبا وڈیوز کو وائرل کیا گیا ہے۔ ہنگامے کے دوران ہی کم از کم 8 لڑکیوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وڈیوز بنانے والی کوئی اور نہیں بلکہ یونیورسٹی میں پڑھنے اور اسی ہاسٹل میں رہنے والی ایک لڑکی ہے جس نے وڈیوز بنا کر ایک لڑکے کو بھجوائیں۔ ہاسٹل کی لڑکیوں نے ویڈیو بنانے والی لڑکی سے پوچھ گچھ کی۔ لڑکی نے طالبات کو کہا ہے کہ اس نے دباؤ میں ویڈیو بنائی، ویڈیو بنانے والی لڑکی ہی نے ایک لڑکے کا نام اور تصویر دکھا کر اسے ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ ہاسٹل منیجر کے سامنے پہلے تو ویڈیو بنانے والی لڑکی نے فوٹو یا ویڈیو بنانے سے انکار کر دیا لیکن جب لڑکی کا موبائل فون چیک کیا تو پتہ چلا کہ اس نے کئی ویڈیوز اور تصاویر ڈیلیٹ کی ہیں جسے بعد میں ریکور کیا گیا۔ لڑکی ہی کے فون کے ذریعے اس لڑکے کا بھی سراغ لگالیا گیا۔ ساری صورت حال واضح ہونے پر یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ اس معاملے میں پولیس نے ملزم طالب علم اور اس کے ساتھی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔اس معاملے میں درج پولس ایف آئی آر کے مطابق ہفتہ کی سہ پہر تین بجے کچھ لڑکیاں ہاسٹل وارڈن راجویندر کور کے پاس پہنچیں۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ملزم طالب علم واش روم میں 6 لڑکیوں کی ویڈیو بنا رہا تھا۔ وارڈن راجویندر کور نے لڑکی سے پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد یونیورسٹی کی گرلز ہاسٹل منیجر ریتو کو اس کی اطلاع دی گئی۔ ریتو نے یہ سب لانے کو کہا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی کی لڑکیاں مشتعل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہاسٹل میں خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہیں۔ انہوں نے ہاسٹل انتظامیہ پر معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔طالبات کا کہنا تھا کہ ملزم لڑکی سب کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والی تھی لیکن انتظامیہ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔


