وزیر اعلیٰ بلو چستان نے کسانوں کو 15.83 ارب روپے سبسڈی فراہم کرنے کے منصوبے کی منظوری دیدی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدوس بزنجو نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں زرعی شعبے کی بحالی کے لئے کسانوں کو 15.83 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کے پلان کی منظوری دے دی۔ جمعہ کو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں زرعی بحالی پلان اور فوڈ سیکورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں صوبائی وزراءمیر اسد اللہ بلوچ، زمرک خان اچکزئی، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دیگر صوبوں کو دیکھتے ہوئے سبسڈی کو مزید بڑھایا جائے گا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ زرعی بیجوں پر صوبائی حکومت کسانوں کو 6.71 ارب روپے کی سبسڈی دے گی صوبائی حکومت فرٹیلائزر پر کسانوں کو 6.47 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی بور اور سولر سسٹم کی بحالی کے لیے 2.62 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ بر یفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں حالیہ سیلابی بارشوں سے مختلف اضلاع میں 52 فیصد خریف فصلوں کا رقبہ متاثر ہوا ہے سولر ٹیوب ویلز بھی سیلابی بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں ذخیرہ شدہ زرعی بیجوں کا ضیاع بھی ہوا ہے،سیلابی صورتحال سے کینال سسٹم بھی متاثر ہو ہے زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث خوراک کے فقدان کا خدشہ ہے۔ اجلاس کو بر یفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ زرعی بحالی پلان کے تحت حکومت کسانوں اور کاشتکاروں کو سبسڈی فراہم کر رہی ہے رجسٹرڈ کسانوں کو زرعی بیجوں پر صوبائی حکومت 70 فیصد سبسڈی دے گی سولر سسٹم کی بحالی اور کھاد پر صوبائی حکومت کسانوں کو 50 فیصد سبسڈی فراہم کرے گی سبسڈی صوبے کے بارانی اور نہری دونوں علاقوں میں فراہم کی جائے گی ۔سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے جوائنٹ سروے کئے جارہے ہیں۔سیکرٹری زراعت نے بتایا کہ زرعی شعبے کی بحالی سے فوڈ سیکورٹی کسانوں کے روزگار کے تحفظ اور مجموعی طور پر 324 ارب روپے کے مالی فوائد حاصل ہوں گے،زرعی بحالی پلان کے تحت ربیع کے فصلوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ا جلا س سے خطاب کر تے ہوے صوبائی وزیر خوراک زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ آٹے کی قلت دور کرنے کے لئے حکومت پنجاب اور پاسکو سے گندم کی خریداری کی جارہی ہے عوام کو سستا آٹا فراہم کرنے کے لئے سیلز پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدوس بزنجو نے اجلا س سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ کسان بھائیوں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے اگر زمینداروں اور کسانوں کو فوری ریلیف نہ دیا گیا تو خوراک کی قلت پیدا ہو سکتی ہیں یہ وقت کسان بھائیوں کی مدد کرنے کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسانوں کو اونرشپ دینی ہے اگر کابینہ اراکین کو دو مہینوں کی تنخواہیں بھی نہ دینا پڑے تو ہم کسانوں کی مدد کرنے سے دریغ نہیں کریں گے اس وقت ہمیں وفاقی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔وزیر اعلیٰ نے صوبے میں آٹے کی ارزاں نرخوں پر فراہمی پر وزیر خوراک کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کو معیاری اور سستے آٹے کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں