زمینداروں کو سیلاب سے ہونیوالے اربوں روپے نقصان کا ازالہ کیا جائے، کسان بورڈ بلوچستان
خضدار (انتخاب نیوز) کسان بورڈ بلوچستان کی جانب سے خضدار میں کسان کانفرنس کا انعقاد،حالیہ مون سون بارشوں نے بلوچستان کی زراعت کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے، زمینداروں اور کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، ان نقصانات کے ازالہ کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں،کسانوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکومتی سطح پر عملی اقدامات اور،فصل کی تیار ہونے سے قبل قیمتوں کو تعین کیا جائے،خضدار سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا گیا ہے مگر زمینداروں و کسانوں پر نہ زرعی قرضے اور نہ بجلی کی واجبات معاف کئے گئے ہیں،اگرفوری طور پر بلوچستان کی زمینداروں کے نقصانات کا تخمیہ لگا کر ان کا ازالہ نہیں کیا گیا تو اگلے سیزن میں زمیندار کاشتکاری کی پوزیشن میں نہیں ہونگے،بلوچستان کے باغات،بندات،زرعی مشینری بھی تباہ ہو گئے ہیں، مقررین کا سیمینار سے خطاب۔ کسان بورڈ بلوچستان کی جانب سے خضدار پریس کلب میں کسان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس کی صدارت کسان بورڈ بلوچستان کے صدر میر رشید احمد نتھوانی نے کی، مہمان خاص ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت منیر احمد مینگل تھے، دیگر اعزازی مہمانوں میں محقق دانشور سلطان احمد شاہوانی، انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے سابق رجسٹرار محمد عالم جتک، جھالاوان ایکشن کمیٹی کے صدر صابر حسین قلندارنی،نائب صدر بشیر احمد رئیسانی،جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالوہاب غلامانی،پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماءڈاکٹر حضور بخش زہری،پیپلز پارٹی کے رہنماءمیر عبدالحمید غلامانی،جے آئی کسان بورڈ بلوچستان کے سینئر نائب صدر رئیس راجا رند،خضدار کے صدر وڈیرہ امیر بخش،سینئر نائب صدر میر یاسر باجوئی اور دیگر شامل تھے جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی جاوید احمد منصوری نے انجام دی کسان بورڈ بلوچستان کے صدر میر رشید احمد نتھوانی نے کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں نے بلوچستان بھر میں تباہی مچا دی ہیں زمینداروں کی کھڑی فصلیں تبا ہ ہو گئے ہیں،بندات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے،باغات تباہ ہو گئے زرعی مشینری کو نقصان پہنچا اگر دیانتداری سے اندازہ لگایا جائے تو بلوچستان کے تمام اضلاع میں جو نقصانات ہوئے ہیں وہ اربوں میں ہیں ان نقصانات کے ازالہ کے لئے صوبائی حکومت نے جتنی فنڈز مختص کی ہے وہ ناکافی ہیں ان نقصانات کے ازالہ کے لئے صوبائی حکومت وفاق سے فنڈز ریلیز کروادیں کسان بورڈ کے صدرنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ماضی میں جب بھی کوئی قدرتی آفت آئی ہے تو وسائل دیانتداری کے ساتھ خرچ نہیں ہوئے ہمیں خدشہ ہے اس بار بھی ایسا ہو گا اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر بہترین حکمت عملی اپنایا جائے اور اس کے لئے کسان بورڈ کو بھی مشاورت میں شامل کر کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے کسان کانفرنس سے دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں زراعت کو سائنسی بنیادروں پر استوار کرنے کی ضرورت ہیں سائنسی بنیادوں پر زراعت کا استوار نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کو فصل کی پیداوار میں شدید مشکلات کا سامنا ہے مارکیٹ میں نقلی اور غیر معیاری بیج فروخت ہوتی ہے،فیصل کی تیار ہونے کے ساتھ منڈیوں کے بیوپاری بھی کسانوں کو بلیک میل کر کے ان کی پیداور کو کوڑیوں کو دام خریدنے کی کوشش کرتے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ فصل تیار ہونے سے قبل سرکاری سطح پر نرخوں کا تعین کیا جائے مقررین نے کہا کہ بد قسمتی یہ ہے کہ بلوچستان کی بارانی پانی اسٹور ہونے کے بجائے ضائع ہو رہی ہے اگر بارانی پانی کو ضائع ہونے سے روکھا جائے اور اس کے لئے جہاں جہاں حقیقی طور پر ڈیموں کی ضرورت ہے وہاں ڈیمز تعمیر کیں جائیں اور جہاں جہاں ڈیم تعمیرکئے گئے ہیں ان سے زمینداروں کو مستفید کیا جائے تو کافی حد تک بلوچستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور پانی کی قلت کو بھی دور کرنے میں مدد ملے گی مقررین نے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں نے جو نقصانات کئے ہیں ان نقصانات کے لئے حکومت نے جو سروے ٹیمیں تشکیل دی ہے ان کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہیں بعض اضلاع میں تو ابھی تک پہنچے ہی نہیں ضلع کے بھی بعض علاقے نظر انداز ہیں کام کی سستی اور لوگوں کو نظر انداز کرنے سے زمینداروں اور کسانوں میں تشویش پائی جاتی ہے حکومت سروے کی عمل کو تیز کریں،مقررین نے کہا کہ جھالاوان میں زراعت کے ساتھ ساتھ لائیو اسٹاک کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے کانفرنس کے اختتام پر مختلف قرار دادیں پیش کی گئیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خضدار میں تمام اراضیات قبائل کی ہے قبائل کی اراضیات پر ان کی حق ملکیت کو قبول کیا جائے،بلوچستان کے تمام اضلاع میں فروٹ ِزرعی اجناس،سبزی،پھل وغیرہ کی باقاعدہ سرکاری سطح پر نرخنامہ کا تعین کیا جائے،زرعی مارکیٹوں میں کسان تنظیموں کو باقاعدہ نمائندگی دی جائے،زرعی ادویات،کھاد کی قیمتوں میں کمی کر کے کسانوں کو سبسڈی دی جائے،کوئٹہ کراچی این 25 شاہراہ تعمیر ہونے کا آغاز کیا گیا ہے اس شاہراہ پر جہاں جہاں زمینداروں کے اراضیات آ رہے ہیں ان کو جلدی اراضیات کا معاوضہ دیا جائے،کانفرنس کے اختتام پر کسانوں کی رہنمائی کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی جو کسانوں کی رہنماءکے علاوہ ان کے مسائل و دیگر معاملات پر محکمہ زراعت،انتظامیہ سے رابطہ کرے گی کمیٹی میں سلطان احمد شاہوانی،محمد عالم جتک،صابر حسین قلندرانی،عبدالوہاب غلامانی،وڈیرہ امیر بخش کو شامل کر دیا گیا جبکہ کمیٹی کی نگرانی میر رشید احمد نتھوانی ہونگے کانفرنس میں ضلع خضدار کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کسانوں نے شرکت کی۔


