ایرانی حکومت براہ راست بلوچوں کی نسل کشی میں ملوث ہے، بی ایس او

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس او کے چیئرمین جہانگیر منظور بلوچ ،سیکرٹری اطلاعات بالاچ ،قادر بلوچ نے ودیگر نے کہا ہے کہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے بلوچستان کے طلبا وطالبات کے مسائل کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، ہم نے بلوچستان کے طلبا وطالبات کے درپیش مسائل کے لئے احتجاج کیاایران میں بلوچ اقوام سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو قتل کیا گیا ہے، بین الااقوامی ادارے ایران جیسے بڑے واقعات اور ظلم کا نوٹس لیا جائے، ایرانی حکومت براہ راست بلوچوں کی نسل کشی میں ملوث ہے، آج تنظیم کی کارردگی سے طلبا وطالبات متاثر ہوکر تنظیم میں شمولیت کررہے ہیں، نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد اور خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں سابق چیئرمین بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ذاکر بلوچ کی ساتھیوں سمیت بی ایس او میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان وہ بدقسمت صوبہ ہے جس میں طلبا وطالبات مختلف مسائل سے دوچار ہیں، بلوچ قوم کئی دہائیوں سے مختلف مسائل کا شکار ہے، بلوچ قوم ریکوڈک، سیندک پروجیکٹ اور گوادر جیسے بڑے منصوبوں کے ثمرات سے تاحال محروم ہے، دیگر صوبوں کی نسبت بلوچستان میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے طلبا وطالبات پر تعلیم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں بلوچ قوم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو سچ دکھانے اور بولنے کے خاطر لاپتہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی بلوچ طلبا وطالبات نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے حقوق کے لئے آج بھی کھڑے ہیں۔ بلوچستان کی مختلف یونیورسٹیز اور کالجز میں مالی بحران کا بہانہ بنا کر تعلیمی اداروں کو زوال کا شکار کرتے ہیں، بلوچستان فزیو تھراپسٹ پولیس کے لاٹھی چارج کی مذت کرتے ہیں، ایران میں بلوچ اقوام سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو قتل کیا گیا، بین الااقوامی ادارے ایران میں واقعات اور ظلم کا نوٹس لیں، ایرانی حکومت براہ راست بلوچوں کی نسل کشی میں ملوث ہے۔ اس موقع پر سابق چیئرمین بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ذاکر بلوچ نے ساتھیوں سمیت مستعفی ہوکر بی ایس او میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس او نے ہمیشہ نوجوانوں کو وہ راہ کھائی جس سے نوجوان علم و شعور سے لیس ہو کر قومی جدوجہد کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ بی ایس او کے کارکنان ہر بلوچ نوجوان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کے دکھ درد میں شامل ہوتے ہیں، بی ایس او کے پیغام کو تمام طلبہ تک پہنچائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں