بطور برطانوی وزیر اعظم معاشی بحران سے نمٹوں گا، رشی سوناک
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) رشی سوناک 2 ماہ کے دوران برطانیہ کے تیسرے وزیر اعظم بن گئے جنہیں سنگین ہوتے معاشی بحران، باہمی اختلافات کی شکار سیاسی جماعت اور ملک کو درپیش شدید تفریق اور تقسیم کے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔پارلیمنٹ کے امیر ترین اراکین میں سے ایک رشی سوناک کو معاشی سست روی، قرض لینے کے زیادہ اخراجات اور 6 ماہ کے توانائی کے بلوں کے امدادی پروگرام کی وجہ سے عوامی مالیات میں تخمینہ 40 ارب پاﺅنڈ( 45 ارب ڈالر)کے خلا کو پر کرنے کے لیے ملکی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کرنا ہوں گی۔رشی سوناک کو پارٹی کی گرتی مقبولیت کے دوران انتخابات کے بڑھتے مطالبات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا اگر وہ 2019 میں کنزرویٹو پارٹی کو منتخب کرنے والے پالیسی منشور سے بہت دور چلے جاتے ہیں جب کہ اس وقت کے رہنما بورس جانسن نے ملک میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔معاشی ماہرین اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ رشی سوناک کے تقرر سے مارکیٹوں میں استحکام نظر آئے گا، جب کہ لاکھوں لوگ مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں تو نومنتخب وزیراعظم کے پاس کچھ آسان آپشنز موجود ہیں۔اسکوپ ریٹنگ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایکو سیورٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ 2023 میں کساد بازاری میں تیزی کے امکان اور آئندہ عام انتخابات صرف 2 سال کا رہنے کی وجہ سے رشی سوناک کو چیلنجنگ پریمیئر شپ کا سامنا ہوسکتا ہے۔


