غیر حاضر اساتذہ سے 29کروڑ روپے ریکور 2ہزار بند سکول فعال

کوئٹہ (خ ن)صوبے بھر میں سرکاری سکولوں میں بچوں کی درس و تدریس سمیت دیگر اہم امور کے لیے مربوط ڈیٹا اور شماریات کا اہم رول ہے۔ پالیسی سازی کے لیے اعداد و شمار روڈ میپ مہیا کرتی ہیں جہاں مستقبل کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ان خیالات کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے محکمہ تعلیم سکولز کی زیر نگرانی بلوچستان ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سنٹر کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سکولز عبدالروف بلوچ بھی موجود تھے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ آ¶ٹ آف سکولز بچوں کی تعداد کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ بچوں کو سکولوں تک رسائی اور تعلیم کی سہولت مہیا کروائی جا سکے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم سکولز کے آن لائن اور فیلڈ ورک پر سی ایم آئی ایس سمیت محکمہ تعلیم سکولز کی کاوشوں کو سراہا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کو سیکڑی تعلیم سکولز عبدالروف بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ تعلیم سکولز میر باز مری، چیف پلاننگ آفیسر عبدالخالق اور منیجر اویس ملک نے محکمہ اور پی ایم سی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پر فارمنس منیجمنٹ سیل تین مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے جس میں ایجوکیشن منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم جو کہ 60 سے زائد تعلیمی اہداف و منسلک اعداد و شمار کے لیے مستند تصور کیا جاتا ہے، رئیل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم کے تحت سکولوں کی لائیو مانیٹرنگ سمیت اساتذہ، طلباءاور دستیاب وسائل کے لیے استعمال میں لائی جا رہی ہے، کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے تحت محکمہ تعلیم اور اس سے منسلک محکموں اور اداروں کے بارے میں شکایات کے اندراج کے لیے سروسز مہیا کر رہی ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ تعلیمی اعداد شمار 2021-22 کے تحت محکمہ ہذا کے ساتھ 58116 ہیومن ریسورس موجود ہے جبکہ سکولوں میں بچوں کی مجموعی تعداد 1118933 ہے اور اسکولوں کی تعداد 15096 موجود ہے۔ چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ محکمہ تعلیم سکولز کا یہ نظام جی پی ایس سسٹم، تصایر اور مانیٹرنگ رپورٹس پر انحصار کرتی ہے جس میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس نظام کو ملک بھر میں بہترین نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو کہ بلوچستان بھر کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ حکام نے بتایا کہ آر ٹی ایس ایم کی ٹیموں اور محکمہ تعلیم کے اعلی حکام نے اب تک 165612 تفصیلی دورے کیے ہیں جس کی بدولت 2159 بند سکولوں کو فنکشنل کر کے درس و تدریس کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ ڈسٹرک ایجوکیشن گروپ کی 828 اجلاس ہوئے ہیں جس میں غیر حاضر عملے سے 296.23 ملین روپے کی ریکوری کی گئی ہے اور تادیبی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے، حکام نے بتایا کہ حالیہ سیلابی صورتحال میں بھی ایک بہترین ڈیش بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں تمام سکولوں کا ڈیٹا موجود ہے۔ چیف سیکرٹری نے محکمہ تعلیم سکولز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں