مہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں فورسز کیخلاف مظاہروں میں شدت

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے متعدد شہروں میں گزشتہ روز حکومت مخالف مظاہروں میں شدت دیکھنے میں آئی، جس میں ہونے والے تشدد میں بعض مظاہرین حکومتی فورسز کی فائرنگ میں ہلاک بھی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق زاہدان شہر میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں پیش آئیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو بعض ویڈیوز پوسٹ کیے گئے ہیں، اس میں سیکورٹی فورسز کو ہجوم پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے تازہ تشدد میں ایک شخص ہلاک اور 14 زخمی ہوئے۔ تاہم امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق تازہ تشدد میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور ایک درجن سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہروں کا سلسلہ تقریبا چھ ہفتے قبل اس وقت شروع ہوا تھا جب ایک نوجوان کرد خاتون کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت ہوگئی تھی اور تبھی سے ملک میں وسیع تر مظاہروں نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ بدامنی اب تہران کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔کرد خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران ہی صوبہ سیستان بلوچستان کے دارالحکومت زہدان میں مبینہ طور پر ایک سینئر پولیس اہلکار نے ایک نوجوان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی جس کے بعد سے شہر میں مظاہروں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ واقعے کیخلاف شہر میں احتجاج کی ایک نئی لہر چل پڑی، جسے دبانے کے لیے سیکورٹی فورسز نے سخت کارروائی شروع کی اور 30 ستمبر کو ہونے والی ایسی ہی ایک کارروائی میں درجنوں مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ حالانکہ کہ حکام نے اعلان کیا تھا کہ 30 ستمبر کے روز ہونے والے مہلک کریک ڈاؤن کے سلسلے میں دو اعلیٰ پولیس اہلکاروں کو برطرف کردیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود جمعے کے روز عوام کا ہجوم سڑکوں پر نکلا۔ مظاہرین ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے ”خمینی مردہ باد“ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کی سرحدیں پاکستان اور افغانستان دونوں سے ملتی ہیں اور اس صوبے میں سنی مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت آباد ہے، جبکہ ایران ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ مسلح بلوچی علیحدگی پسندوں نے سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا تھا، اس لیے کارروائی کی گئی۔ تاہم شہر کی سب سے بڑی مسجد کے امام نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں