بلوچستان کے 32 اضلاع میں مخصوص نشستوں پر بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو ہوں گے
کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی الیکشن کمشنر فیاض حسین مراد نے کہا ہے کہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے مخصوص نشستوں پر انتخابات 14دسمبر کو ہوگا 2082خواتین کی مخصوس جبکہ۔کسان اور اقلیت کی 902-902امیداواروں کیلئے شیڈول جاری کردیا گیا صوبائی حکومت کی جانب سے متوقع نئی قانون سازی کے بعد کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد مزید ایک سال التوا کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے نئی حلقہ بندیاں اور لسٹوں کو ترتیب دینا ہوگا اگر جنرل الیکشن کا اعلان ہوتا ہے تو بلوچستان میں ہم نے حتمی انتخابی لسٹوں اور حلقہ بندیوں کا تمام کام مکمل کرلیا ے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کیاانہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 32 اضلاع میں مخصوص نشستوں پر انتخاب کے شیڈول کا اعلان کردیا ہے ۔ریٹرننگ افسران کو یکم نومبر کو پبلک نوٹس جاری کئے گئے۔خواتین مزدور،کسان اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کیلئے 7نومبر کو کاغذاتِ نامزدگی وصول کئے جائیں گے۔کاغذات نامزدگی 7سے 9 نومبر تک وصول کئے جائیں گے امیدواروں کی ابتدائی فہرست 10نومبر کو جاری ہوگی ۔مخصوص نشستوں پر انتخاب لڑنے والوں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 11 سے 14 نومبر تک ہوگی کاغذات نامزدگی مسترد یا منظور ہونے کے خلاف اپیل 15سے 17نومبر تک دائر کی جاسکتی ہیں۔کاغذات نامزدگی کی اپیلوں پر اپیلٹ اتھارٹی 22نومبر تک فیصلے کرے گی امیدوار کی حتمی فہرست اور انتخابی نشانات 25 نومبر کو الاٹ ہونگے بلوچستان کے 32 اضلاع کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 14دسمبر کو ہوگی مخصوص نشستوں پر انتخاب مکمل ہونے کے بعد یونین کونسل میونسپل کارپوریشن کے چیئرمینوں اور وائس چیرمین کا انتخاب ہوگا انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال کے باعث حب اور لسبیلہ کے اضلاع میں انتخابی شیڈول دوبارہ جاری کیا گیا ہے۔حب اور لسبیلہ میں کاغذات نامزدگی کی جانچ ہڑتال آج ہوگی بلدیاتی شیڈول بلوچستان ہائیکورٹ نے معطل کررکھا ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے تیاریاں مکمل ہیں ان کا کہنا تھا کہ 2 ہزار 82 خواتین کی نشستوں جبکہ مزدور اور اقلیت کی نشستوں پر 902-902امیدوار کا انتخاب ہوگا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نیا ایکٹ لارہی لیکن ابھی تک الیکشن کمیشن کو نہیں دیا گیاکوئٹہ میں تمام وارڈز کو شہری یونین کونسلوں کا درجہ دیا جارہا ہے اور شہری حد بندی کے باعث اس ضلع میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد ایک سال تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے اور عدالت میں کیس زیر سماعت ہے اگر حکومت کی جانب سے نیا ایکٹ پاس ہوتا ہے اور اس کے بعد کوئٹہ میں انتخابات کے حوالے سے نئی حلقہ بندی اور لسٹوں کی ترتیب کےلئے وقت درکار ہوگا اور انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں جنرل الیکشن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی تمام تیاری مکمل کرلی ہے 7 ا کتوبر کو حتمی ووٹر لسٹیں شائع کردی ہے حلقہ بندیاں بھی مکمل کرلی ہے ہماری مکمل تیاری ہے جب بھی اعلان ہوگا ہم الیکشن کرانے کی پوزیشن میں ہے انہوں نے بتایا کہ خواتین کی 32 فیصد ¾ کسان ¾ مزدور اور اقلیت سمیت مخصوص نشستوں کی 5 فیصد نمائندگی ہے۔


