بلوچ طلباء کی شکایات کا جائزہ لینے کیلئے بنائے گئے کمیشن کا چھٹا اجلاس منعقد
اسلام آباد:بلوچ طلباء کی شکایات کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں بنائے گئے کمیشن کا چھٹا اجلاس آج بروز ہفتہ پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اراکین نے کمیشن کے گزشتہ اجلاسوں کے دوران ہونے والی بحث کی روشنی میں کمیشن کی رپورٹ کے خاکے پر غور کیا۔ کمیشن کے سیکرٹری نے رپورٹ کی تالیف پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اراکین کو آگاہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عاصمہ فیض نے اپنی ابتدائی سفارشات میں پاکستان کے نسلی تنوع کو تسلیم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انکا کہنا تھا کہ نسلی امتیاز کے حوالے سے زیادہ حساسیت اور قبولیت پیدا کرنے کے لیے طلبہ کی تربیت و آگاہی کے نظام کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے ان کی سفارشات کی توثیق کرتے ہوئے مزید کہا کہ نسلی امتیاز سے نمٹنے کے طریقہ کار کو ادارہ جاتی سطح پر اپنایا جائے اور اس سلسلے میں نئے طلباء کو ضروری تربیت فراہم کی جانی چاہیے۔ ناصر محمود کھوسہ، سابق چیف سیکرٹری بلوچستان نے ایک بین الوزارتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کیا جس میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے جیسا کہ FATF ڈی لسٹنگ کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے آئین نے ہر شہری کے انفرادی بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی ہے اور اس میں جبری گمشدگیوں اور نسلی امتیاز کے خطرے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ دفعات موجود ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل، وزارت انسانی حقوق نے اراکین کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی کنونشنز کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کے متعلقہ فورمز نے پاکستان کو جبری گمشدگیوں کو فوجداری جرم قرار دینے کے لیے مخصوص سفارشات دی ہیں اور ایسے معاملات کی انفرادی طور پر تحقیق کا بھی کہا ہے۔ اسپیشل سیکرٹری وزارت داخلہ نے مسئلے کے حل کی طرف آگے بڑھنے کے طریقے اور ذرائع تجویز کئے۔ مزید برآں کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچ طلباء کے مسائل کی جانچ پڑتال کے لیے کمیشن کی تشکیل کے ہائی کورٹ کے حکم کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ارکان نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے حکومتی اپیلیں واپس لینے کے لیے کمیشن کی جانب سے وزیراعظم کو خط لکھا جائے۔ کمیشن نے کوئٹہ میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور بلوچ طلباء سے ملاقات کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ ڈویڑنل ہیڈکوارٹر کی سطح پر حال ہی میں قائم کیے گئے خصوصی سیلز کے متعلق عام لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے اگاہی کمپین شروع کریں تاکہ لوگ اپنی شکایات کے ازالے کے لیے ان سیلز سے رْجوع کر سکیں۔ کمیشن نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو گزشتہ اجلاسوں میں دی گئی ہدایات کی تعمیلی رپورٹ ایک ہفتہ کے اندر جمع کرانے کی ہدایت دی۔ کمیشن نے آئندہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (NCHR) سے بریفنگ لینے کا بھی فیصلہ کیا۔ اجلاس میں سینیٹرز مشاہد حسین سید، کامران مرتضیٰ، سابق سینیٹر افراسیاب خٹک، اراکین، ڈاکٹر عاصمہ یض، ناصر محمود کھوسہ، وزارت انسانی حقوق اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔


