تفتان میں بارڈر مارکیٹ کی بلا جواز بندش قبول نہیں، فوری کھولا جائے، لیبر یونین
دالبندین (انتخاب نیوز) لیبر یونین تفتان کے صدر حاجی خدائے نذر محمدحسنی، ملک عنایت اللہ محمدحسنی، نبی بخش محمدحسنی، ملک شمس الدین محمدحسنی، حبیب اللہ محمدحسنی، حاجی رحمت اللہ نوتیزئی، محمد صدیق ناروئی اور شاہ محمد محمدحسنی نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتان میں قائم بازارچہ جیسے بازار مشترک یا جوائنٹ بارڈر مارکیٹ بھی کہا جاتا ہے گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے بند ہے جس کی وجہ پہلے چھوٹی جگہ بتائی گئی تاہم بعد ازاں اسے بڑی جگہ منتقل کرکے تمام انتظامات مکمل کیے گئے لیکن اس کے باوجود بازارچہ کو بلاوجہ بند رکھا گیا ہے جسے کھلوانے کے لیے تفتان میں ہر طرح سے جمہوری اور پرامن احتجاج ریکارڈ کیا گیا جبکہ تمام متعلقہ حکام نے بازارچہ کھولنے کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن افسوس کہ اب تک اس سلسلے میں کوئی پیشرفت ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے اہلیان تفتان سمیت پورے ضلع چاغی اور گرد و نواح کے مکینوں سمیت چھوٹے تاجر برادری اور وہاں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں میں شدید غم و غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بازارچہ گیٹ سے چھوٹے تاجر کاروبار کرتے تھے جہاں سے باقاعدہ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد ایرانی اشیاء خریدے جاتے تھے فرق صرف اتنا تھا کہ ایرانی گاڑیاں بغیر کسی امیگریشن کلیئرنس کے وہاں پہنچ کر آف لوڈنگ کرتے تھے جس کی وجہ سے ایرانی اشیاء کی قیمتیں نسبتاً متوازن تھیں جس کا فائدہ سرحدی علاقوں کے چھوٹے تاجروں اور عوام کو ملتا تھا لیکن افسوس کہ حکومت ایک طرف تو ایران کے ساتھ مزید مشترکہ بازار کھولنے کا راگ الاپ رہی ہے جبکہ پہلے سے کھلی بازار کو ایک سال سے بند کرکے چھوٹے تاجروں اور وہاں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا گیا ہے جو قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے لہذا ہم ایک مرتبہ پھر وزیر اعلیٰ بلوچستان، کور کمانڈر بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت وفاقی حکومت کے ذمہ داروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تفتان میں بازارچہ گیٹ کو فوری طور پر کھولیں بصورت دیگر تفتان میں غیر معینہ مدت تک شٹر ڈاون ہڑتال کے ساتھ ساتھ پاک ایران آر سی ڈی شاہراہ بھی بھی بند کی جائے گی اور مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تین سالوں سے بند پاک ایران سفری راہداری گیٹ کھولنے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ بنواکر ویزہ لگوانے کی سکت نہ رکھنے والے افراد پندرہ روزہ خصوصی اجازت نامہ راہداری کے تحت ایران میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جاتے تھے جس کی بندش کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب آباد لوگ شدید پریشانی اور مشکلات کا شکار ہیں۔


