پروفیسرز اپنے جائز مقام و مرتبے سے محروم ہیں، بی پی ایل اے پروگریسو پینل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے انتخابات کے سلسلے میں پروگریسیو پینل کی رابطہ مہم جاری، پروگریسیو وفد رخشان ڈویژن سے ہوتا ہوا مکران ڈویژن جا پہنچا، پسنی، اور ماڑہ اور گوادر کالجز کے پروفیسرز سے ملاقاتیں، انتخابی منشور اور ترجیحات سے پروفیسرز برادری کو آگاہ کیا، آج (بروز جمعہ) تربت،ہوشاب اور 12نومبر کو پنجگور گرلز اوربوائز کالجز کے دورے کئے جائیں گے جس کے بعد 14نومبر سے پروگریسو رہنماء اعلان کردہ وزٹ شیڈول کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے بوائز و گرلزڈگری و انٹر کالجز کے دورے کریں گے۔ واضح رہے کہ بلوچستان پروفیسرز اینڈ الیکچررز ایسوسی ایشن (بی پی ایل اے) کے انتخابات برائے سال2022-24ء کے لئے پولنگ24نومبرکو ہوگی جس کے لئے پروگریسیو پینل کی انتخابی مہم کامیابی سے جاری ہے۔گزشتہ روز بی پی ایل اے پروگریسو کے نمائندہ وفد نے پروفیسر آغا زاہد کی قیادت میں حب، وندر اور ماڑہ کے دورے کئے، جمعرات کے روز پروگریسیو پینل کے نمائندہ وفد نے پسنی اور گوادر کا دورہ کیا پروگریسیو پینل کے نامزد امیدوار برائے صدر پروفیسر آغا زاہد، امیدوار برائے صدارت تربت ڈویژن پروفیسر گلاب بلوچ، قلات ڈویژن کے نامزد امیدوار برائے صدارت پروفیسر حسن ناصر، پروفیسر صالح محمد بڑیچ، پروفیسر عادل بلوچ و دیگر نے گورنمنٹ بوائز کالج گوادرمیں پرفیسرز و لیکچررز سے بات چیت کرتے ہوئے پروگریسیو پینل کے انتخابی منشور، اہداف اور ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہاؤس ریکوزیشن و یوٹیلیٹی الاؤنس، فائر ٹائرپروموشن پالیسی، ون سٹیپ اپ گریڈیشن، ہائیر ایجوکیشن الاؤنس وہیلتھ کارڈ کا اجراء، گریڈ20کے ریگولر اور ٹائم سکیل پروفیسرز کے لئے ڈی آر اے الاؤنس، فزیکل ایجوکیشن و لائبریرین کے لئے سروس سٹرکچر، ملکی و بیرون ملک سکالرشپ و تربیتی کورسز،ٹائم سکیل بندش کے نوٹیفکیشن کی واپسی، کوئٹہ میں پروفیسرز گیسٹ ہاؤس کا قیام، ہر کالج میں رہائشی کالونی و بیچلر لاج کی تعمیر و مرمت اور یکساں تنخواہوں کے لئے منظم جدوجہد ہمارے منشور کا حصہ ہے بلوچستان کے تمام پروفیسرز و لیکچررز حکومتی عدم توجہی کا شکار ہیں ایک طرف ان کی تنخواہیں اورمراعات باقی صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا کم ہیں تو دوسری جانب انہیں درس و تدریس کے دوران غیر معمولی حالات وواقعات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کالج اساتذہ اپنے جائز مقام و مرتبے سے محروم ہیں جس کے منفی اثرات مجموعی تعلیمی نظام پر بھی مرتب ہورہے ہیں درپیش مسائل کے حل کے لئے پروگریسیو پینل نے2018ء سے2020ء تک نمایاں کام کیا لیکن بدقسمتی سے2020ء سے ایسوسی ایشن وینٹی لیٹر پر چلی گئی صوبے کی تاریخ میں سرکاری ملازمین کی سب سے بڑی تحریک میں بی پی ایل اے بظاہر فرنٹ لائن پر موجود رہی لیکن مطالبات منوانے کا مرحلہ آیا تو ہمیں گم کھاتے میں ڈال دیا گیا جس کے باعث کالج اساتذہ ڈی آر اے اور یگر جائز حقوق سے محروم ہوگے۔ اس موقع پر پروگریسیو نمائندوں نے مختلف کالجز کے پروفیسرز کی جانب سے اٹھائے گئے نکات اور سوالوں کے تفصیلی جواب دیئے اوراس عزم کااعادہ کیا کہ پروگریسو اپنے منشور پر عملدرآمد کے لئے ہر حد تک جائے گی تاکہ کالج اساتذہ کو ان کا جائز مقام و مرتبہ دلایا جاسکے پروگریسیو رہنماؤ ں کا کہنا تھا کہ ہم پروفیسرز جدوجہد کا تسلسل چاہتے ہیں 24نومبر کو کالج اساتذہ انتخابی نشان مشعل پر مہر لگا کر پروگریسو کوایک بارپھر آگے آنے کاموقع دیں۔ کالج اساتذہ نے پروگریسیو پینل کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پروگریسیو کے منشور کو کالج اساتذہ کے حقوق کے حصول کے لئے سنگ میل قرار دیا۔بی پی ایل اے پروگریسو کے رہنماء آج (بروز جمعہ) کو تربت اور ہوشاب کے پروفیسرز سے ملاقاتیں کریں گے کل 12نومبر کو پنجگورگرلز وبوائز کالجز کے دورے کئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں