ایران میں مذہبی رجیم کے جبر کیخلاف عوام نے ”پگڑیوں کو گرادو“ مہم کا آغاز کردیا
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں مذہبی عناصر کی حکومت اور اس کے جبرکیخلاف عوام ایک نئی مہم چلا رہے ہیں۔ اس مہم کے تحت ایرانی ملاں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں اور انہیں راہ چلتے ان کے سروں سے اتار کرپھینک دیا جاتا ہے۔ یہ مہم ایران میں مذہبی رجیم کے جبرکے خلاف عوام کے رد عمل کی ایک نئی تکنیک ہے۔”پگڑیوں کو گرا دو” مہم ایک نیا حربہ بن گیا جو ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مہم حکومت کے خلاف جاری احتجاج کے مسلسل نویں ہفتے میں جاری ہے۔ اس احتجاجی مہم میں لوگ روزانہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور علما کے مذہبی اختیارات کو مسترد کرتے ہیں۔ جبر، بدعنوانی، پسماندگی اور ان کی اقتدار سے علیحدگی اور مساجد اور دینی مدارس میں واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر روزانہ ایرانی لڑکوں یا نوجوان خواتین کوملاؤں کو پیچھے سے چھپ کر ان کے سروں سے پگڑیاں اتارنے کے کلپس پھیلائے جاتے ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران میں عام لوگ ملاؤں اور مذہبی عناصر سے کتنی نفرت کرتے ہیں جو گزشتہ 43 سال سے ایرانی عوام کی گردنوں پر مسلط ہیں۔ ایران میں احتجاج کا سلسلہ 22 سالہ لڑکی مہسا(جینا)امینی کے گذشتہ 16 ستمبر کو مکمل نقاب نہ پہننے پر گرفتار کرنے اور دوران حراست تشد کرکے اسے موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد شروع ہوا۔ اس واقعے کے بعد ایران میں شدید غم وغصے کی ایک ایسی لہر اٹھی جس نے ایرانی مذہبی رجیم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اس کے بعد ایرانی سپریم لیڈر خمینی، آیت اللہ خامنہ ای، مقتول قاسم سلیمانی کے خلاف نعرے بازے اور ان کی تصاویر پھاڑی جاتی ہیں۔ابھرتے ہوئے نوجوانوں کا استدلال ہے کہ جب حکمران مذہبی نظریے کی منطق میں خواتین اور نوجوانوں کو وہ لباس پہننے کی اجازت نہیں ہے جو وہ چاہتے ہیں تو پگڑیاں اتارنے کی مہم صرف جبر کا ردعمل نہیں ہے بلکہ آمرانہ حکومت کے خلاف ایک سیاسی عمل ہے۔حکومت کے حامی اس واقعے پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ پاسداران انقلاب سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی نے "علما کے لباس کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ” کا مطالبہ کیا۔ایران کی شوری کونسل (پارلیمنٹ)کے ایک رکن عالم دین محمد تقی نقدعلی نے مذہبی عناصر کے سر سے پگڑی گرانے کے واقعات کو "شیطانی سازش” قرار دیا اور کہا کہ ایسا کرنے والے "شیر کی دم سے کھیلتے ہیں "۔جہاں کچھ ایرانیوں نے "پگڑی اچھالنے” کو ایک انقلابی عمل قرار دیا۔ وہیں دوسروں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ریاست سے تعلق نہ رکھنے والے نچلے درجے کے علما ہراساں ی اور تشدد کا شکار ہو سکتے ہیں۔خاتون وکیل شادی صدرجو انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور لندن میں "جسٹس فار ایران” کے ڈائریکٹرکے طور پر کام کرتی ہیں نے کہا کہ یہ حربہ ایک "جرات مندانہ اور انقلابی عمل” ہے۔ انہوں نے ریڈیو فری یورپ کو بتایا کہ "مظاہرین تشدد کا سہارا لیے بغیر ملاں کی پگڑیاں اچھال کران کے خلاف اپنی حقارت کا اظہار کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "وہ مولویوں کی پگڑیوں کو پچھلے 43 سالوں میں جرائم اور بدعنوانی کی علامت کے طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مولویوں کو حاصل مراعات بھی بھی عوام میں نفرت کا باعث ہیں "۔لیکن تہران میں اصلاحی تحریک کے قریبی صحافی احمد زیدآبادی نے کہا، "سڑکوں پر نشانہ بنائے جانے والے کچھ علما ناقدین یا حکومت کی پالیسیوں کے شکار بھی ہو سکتے ہیں۔” انہوں نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "یہ رجحان بنیادی طور پر ایسے علما کو نشانہ بناتا ہے جو کسی سرکاری عہدہ پر فائز نہیں ہیں "۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ریاست میں اعلی عہدوں پر موجود سینئر علما شاذ و نادر ہی عوام میں نظر آتے ہیں اور اکثر سکیورٹی عناصر سے تحفظ میں ہوتے ہیں۔مظاہروں کے شروع ہونے سے پہلے کے عرصے میں بھی اس تحریک میں تیزی آنے کے ساتھ ملاں سے بیگانگی کے عمومی احساس کی وجہ سے بہت سے مولویوں کو اپنے مذہبی لباس اور پگڑیاں اتارنے اور عام لباس پہننے پر مجبور کیا۔


