چیدگی بارڈر کی بندش سے ہزاروں افراد بیروزگار اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں، پنجگور حق مظلومان تحریک
پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور حق مظلومان تحریک کے زیر اہتمام تسپ میں جرگہ چیدگی گر گراوگ کلگ تسپ گرمکان وشبود سبزاب اور دیگر علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت چیدگی بارڈر کے مسائل پر صلاح ومشور بارڈر کو ون مین شو کے زریعے چلانے پر مزاحمت کرنے کا اعلان ضلعی انتظامیہ چیدگی بارڈر کو فوراً کھول کر بارڈر سے نامعلوم افراد کی جانب سے رکھے گئے ٹینکیوں کو ہٹادے تاکہ عوام آزادانہ طور پر روزگار کرسکیں جرگہ میں اس بات کو بھی مسترد کردیاگیا کہ لوگ اس بات کے بھی پابند نہیں ہیں کہ وہ بارڈر پر کمیشن ایجنٹ کے زریعے تیل خرید کر پھر پنجگور میں انکی خواہش پر آکر مخصوص گیٹوں میں خالی کریں۔تفصیلات کے مطابق حق مظلومان کے تحت تسپ میں حاجی میر ہیبتان زہروزہی کی رہاٰش گاہ پر ایک بڑا جرگہ منعقد کیاگیا جس میں کوہ سبز، چیدگی، نکر سوراپ، کلگ، سوروان، گر، گراوگ،تسپ، گرمکان، وشبود، سبزاب سے سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی جرگہ سے حق مظلومان کے سربراہ میر ہیبتان، حاجی غلام جان، حاجی رمضان، سردار عبدالصمد محمد حسنی حاجی نصیراحمد سردار زبر شاہ اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور کے عوام چھ ماہ سے مسلسل بارڈر کی بندش سے بھوک وافلاس کا شکار ہوچکے ہیں ہزاروں افراد بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ ہوکر فاقوں پر گزارہ کررہے ہیں گاڑیوں کے اقساط کی ادائیگی بھی نہیں کرپارہے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہے مگر دوسری جانب زمہ داروں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی وہ ہر روز ایک نئے ڈرامہ کے ساتھ غریب عوام کی عزت نفس کو مجروح کرکے انکا استحصال کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ حق مظلومان نے ہمیشہ بارڈر کے مسائل پر عام لوگوں کے روزگار کے تحفظ کی بات کی ہے اور حق مظلومان چاہتا ہے کہ چیدگی بارڈر پر عوام بغیر کسی مداخلت کے روزگار کریں جس طرح جیرک بارڈر کو چلایا گیا تھا اسی تسلسل کو یہاں برقرار رکھ کر چیدگی زیرو پوائنٹ میں رکھے گئے ٹینکیوں کو فوراً ہٹایا جائے انہوں نے کہا کہ زیرو پوائنٹ پر رکھے گئے ٹینکیاں کس حیثیت اور کس قانون کے تحت موجود ہیں ضلعی انتظامیہ اور دیگر ادارے اس کی وضاحت کریں کیا ریاست کے اندر ایک اور ریاست قائم ہوگئی ہے جو سرکاری خواہشات اور اجازت کے بغیر ٹینکیاں رکھ کر عوام سے مبینہ طور پر رزوانہ لاکھوں اور ماہانہ کروڑوں روپے بھتہ وصول کرے انہوں نے کہا کہ چیدگی بارڈر پر چند افراد کی اجارہ داری کے خلاف پورے علاقے کے عوام اٹھ کھڑے ہیں چیدگی میں اگر ناجائز بھتہ وصولی درست اقدام ہے تو پھر یہ حق چیدگی کے مقامی باشندوں کابنتا ہے کہ وہ ٹینکیوں کی آڑ میں لوگوں سے ٹیکس لیں انہوں نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے پنجگور کا گھر گھر متاثر ہے کوئی شخص ڈرائیوربن کر کماتا تھا تو کوئی کلینر تو کوئی گاڑی مالک کی شکل میں اپنی گزربسر بارڈر سے کرتا تھا جب سے بارڈر بند ہے دسیوں ہزار لوگ گھروں میں فاقہ کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ چیدگی میں جس منصوبے کے تحت کاروبار چلانے کی سازش ہورہی ہے یہ قابل قبول نہیں ہے گاڑی مالک بارڈر پر کمیشن ایجنٹ کے زریعے تیل خریدنے کا پابند ہے اور نہ مخصوص گیٹوں میں تیل فروخت کرنے کا عوام آزادانہ کاروبار چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ لوگ اسی ہزار کمیشن ادا کریں اور انکا منافع پنجگور تک دس ہزار ہو پھر اسکا مطلب یہ ہوا کہ لوگ کرایہ پر گاڑیاں چلارہے ہیں نہ وہ اپنی مرضی سے تیل خرید سکتے ہیں اور نہ فروخت کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ بارڈر پورے پنجگور کی ملکیت ہے اور اس پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے انہوں نے کہا کہ مخصوص افراد کے پلان کے تحت جو مبینہ کروڑوں روپے ماہانہ اکھٹے ہوجاتے ہیں ان پیسوں سے علاقے کی ہیلتھ ایجوکیشن روڑ اور پانی کے مسائل حل کیئے جاتے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر جس طرح سے مقامی آبادی کو بائی پاس کرکے کاروباری لوگوں کو لوٹنے کا پلان بنایا گیا ہے یہ ایک بڑے فساد کا سبب بنے گا جس سے علاقے میں امن وامان کا مسلہ پیدا ہوگا جو نہ انتظامیہ اور سرکار کے مفاد میں ہے اور نہ عوام کے مفاد میں سرکار کسی رکاوٹ اور چند لوگوں کی اجارہ داری کے بغیر چیدگی بارڈر سے روزگار کے لیے عوام کو چھوڑ دے تاکہ وہ اپنے بچوں کی بھوک مٹاسکیں۔


