بلوچستان میں خواتین کو دستیاب صحت کی سہولیات انتہائی سنگین ہیں، ڈاکٹر طاہرہ کمال
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان میں خواتین کو دستیاب صحت و صفائی سے متعلق سہولیات، وسائل، مشکلات اور صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایم ایچ ایم ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کا چھٹا اجلاس چیئرپرسن ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر اسکولز بلوچستان عبدالواحد شاکر بلوچ، ایف ڈی آئی پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عظمی یعقوب، جی آئی زی کی کنسلٹنٹ شاہانہ رند سمیت محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور مختلف غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کو صحت و صفائی سے متعلق دستیاب سہولیات کی صورتحال انتہائی سنگین ہے ریلیف سرگرمیوں میں فوڈ اور نان فوڈ آئٹم کے ساتھ خواتین کو ہیلتھ اینڈ ہائی جین کا سامان فراہم کرنا بھی نہایت ضروری ہے 2010 کی سیلابی صورتحال کے برعکس حالیہ سیلابی آفت میں ہائی جین کٹ کی فراہمی میں کمیونٹی کی جانب سے کوئی مزاحمت نہیں آ رہی جو ایک خوش آئند اقدام ہے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں کام کرنے والی تمام غیر سرکاری تنظیموں کو اپنے ایکشن پلان میں خواتین کی صحت و صفائی کے قابل عمل منصوبوں کو شامل کرنا چاہیے، زیر جائزہ موضوع پر صورتحال کی مانیٹرنگ اور بہتری کے لئے محکمہ صحت میں جاری ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم اور ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا ڈیٹا معاون ثابت ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ اہداف کے حصول کے لئے سرکاری محکموں اور غیر سرکاری اداروں کے مابین قریبی رابطہ کاری کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، ایف ڈی آئی پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عظمی یعقوب نے سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین کی صحت و صفائی کے حوالے سے اپنے تجربات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن کے چار اضلاع صحبت پور‘ نصیر آباد، اوستہ محمد میں اسی فیصد سیلاب متاثرین واپس اپنے گھروں کی جانب لوٹ چکے ہیں تاہم صحبت پور میں ابتک سیلابی پانی کھڑا ہے اور متاثرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی خیموں میں پناھ گزین ہے ایف ڈی آئی نے دو مرحلوں میں دس ہزار تین سو خواتین کو سینٹری پیڈز اور ہائی جین کٹ فراہم کی گئی ہیں اور معاونت کا یہ عمل مارچ 2023 تک جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ خواتین کی صحت و صفائی سے متعلق اقدامات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا تاکہ غیر سرکاری تنظیموں پر انحصار ختم ہو اور حکومتی سطح پر کاروباری کارپوریشنز کو پنک ٹیکس میں سہولیات دے کر یہ زمہ داریاں انہیں تفویض کی جائیں چیئرپرسن ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ نے ایف ڈی آئی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقل میں فورم فار ڈیگنیٹی انیشیٹیوز پاکستان ایم ایچ ایم ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے متحرک رکن کی حیثیت سے اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر اسکولز بلوچستان عبدالواحد شاکر نے کہا کہ ایم ایچ ایم کے حوالے سے امور کو سہل بنانے کے لئے کثیر الجہتی اقدامات کی حوصلہ افزائی ضروری ہے اجلاس میں ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ کے اہداف کے حصول کے لئے ڈاکٹر فاروق اعظم کی سربراہی میں کور گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ذمہ داریوں کی ٹارگیٹڈ تقسیم کرکے حکمت عملی کی تشکیل اور اہداف پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔


