بہتر تعلیمی ماحول کی تشکیل میں کالج پروفیسرز اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، بی پی ایل اے یکجہتی پینل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن یکجہتی پینل کے نامزد امیدوار برائے صدارت اور ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ بی ایس میں شراکت داری کو بڑھانا ہوگا جس کی پہلی شکل ہی چار سالہ پروگرام ہے بی ایس کو ہر کالج اپنے مقدور بھر توانائی سے اس عزم کے ساتھ آگے لے کر بڑھے گا کہ اسی سے متوازی بی ایس کے لیے کالجز کے وسائل کے ساتھ کالج اساتذہ کے استعداد کار کو بھی بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض بے بنیاد الزام تراشی اور کسی دلیل کے بغیر تنقید سے برادری کو نقصان ہی ہوتا رہا ہے جس کے لیے یکجہتی پینل کے سرکردہ رہنماں نے دلیل اور ثبوت کے ساتھ پروقار انداز میں مشترکہ اہداف کو اکھٹے ہوکر حاصل کرنے پر زور دیا۔ پروفیسر طارق بلوچ نے گذشتہ دنوں جنرل محمد موسی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ کینٹ کے انتخابی دورے کے موقع پر حالیہ کامیاب کابینہ کی کارکردگی کو آگے لے کر بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا کہ ہر جیتنے والے پینل کو سابقہ کابینہ کے حصے کے کام کو بھی لے کر آگے بڑھنا ہے۔انتخابی وفد میں یکجہتی پینل۔کے نامزدامیدوار پروفیسر رازق الفت کاکڑ”پروفیسر امجد حسین’پروفیسر اسماعیل جاموٹ پروفیسر اقبال سمالانی’پروفیسر نور اللہ جان’پرویسر بلال بلوچ و دیگر شامل تھے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس سمیت لازمی سروسز ایکٹ سبھی تک ہمارا کام سب کے سامنے ہے اگر کوئی سورج کو انگلی سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے برادری کا مخلص کیوں کر کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم جس سرخروئی اور فخر کے ساتھ آپ کے درمیان ہیں تو اس کی واحد وجہ وہ اعتماد ہے جو ہمیں ہمیشہ برادری سے ملا ہے۔ پروفیسر گیسٹ ہاس کے علاوہ ہم نے ڈی آر اے کے حصول میں کامیابیاں سونے کی طشتری سے نہیں اٹھائی ہیں بلکہ ان مراعات کے لیے پوری برادری نے قربانیاں دی ہوئی ہیں جن کے لیے تاریخ اس دور کے پروفیسروں کو ضرور یاد رکھے گی۔ ملازم مزدور اتحاد کی آواز اور نامزد جنرل سیکرٹری پروفیسر رازق الفت کاکڑ نے کہا کہ برادری میں دراڑ پیدا کرنے والے عناصر بے نقاب ہوچکے ہیں۔ حال ہی میں انہی عناصر نے جس طرح سے نئے لیکچررز سے نوکری سے قبل ہی پیسے بٹور کر شعبہ صحت، تعلیم اور پولیس کے بعض اعلی افسران کے نام اپنے وٹس ایپ اور سوشل میڈیا گروپوں میں یہ کہہ کر لئے کہ انہوں نے بھرتیوں پر آٹھ لاکھ سے زائد خطیر رقم رشوت کے طور پر بانٹی ہے، یکجہتی پینل آج بھی اس طرح کے عمل کی نہ صرف شدید مخالفت کرتا ہے بلکہ کسی مقدس پیشے کے لیے رشوت دینے اور لینے دونوں عمل کے دور رس اور منفی اثرات پر تشویش کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پروفیسر رازق الفت نے کہا کہ وہ عناصر ایسے عمل کے لیے اخلاقی اور مالی طور پر جوابدہ ہیں تاکہ آئندہ قوم کے معمار کسی بھی ایسے ناقابل تعریف عمل کا شکار نہ ہو۔ پروفیسر رازق الفت نے کہا کہ یکجہتی پینل اجتماعی دانش اور مثبت جمہوری رویوں پر یقین رکھتا ہے اور اسی بنیاد پر کالج اساتذہ کو باور کراتا ہے کہ وہ اپنے جمہوری حق کو تاریخ اور ضمیر دونوں ترازو پر رکھ کر فیصلہ کریں تاکہ پیش آمدہ صورت حال میں زمینی حقائق اور ٹھوس بنیادوں پر بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندے اپنے معزز کالج پروفیسروں کے ایک پروقار اور محفوظ مستقبل کی ضمانت فراہم کرسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں