خاشقجی قتل کیس میں امریکا کی جانب سے محمد بن سلمان کو استثنا دینے کی سفارش
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی حکومت کی جانب سے 2018میں ترکی میں قتل ہونے والے سعودی نژاد واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار امریکی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو قانون کارروائی سے استثنی دینے کی سفارش پر انسانی حقوق کے گروپوں نے بائیڈن انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے بڑی دھوکہ دہی قرر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے استثنی کی تجویز نے صحافی جمال خاشقجی کی بنائی گئی این جی او ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ نا کے نمائندگان، ان کی منگیتر اور دیگر حامیوں میں شدید غم وغصہ پیدا کردیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل اگنیس کالامرڈ نے استثنی کی سفارش کو بڑا دھوکہ قرار دیا، جمعے روز اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے لکھا کہ آج یہ استثنی ہے، اس سے سزا نہ ملنے کے واقعات میں ایک اور اضافہ ہوگیا، انہوں نے مزید لکھا جمال خاشقجی آج ایک بار پھر انتقال کر گئے۔امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے سے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی عدالت میں پیش کی گئی تجویز میں کہا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اس وقت سعودی حکومت کے وزیراعظم ہیں، لہذا بطور سربراہ سلطنت انہیں اس کیس سے استثنی حاصل ہے۔یہ سفارش امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی گئی جو دیگر ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی نگرانی کرتا ہے اور ان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھتا ہے۔


