طاقت کا استعمال حکمرانوں کو مہنگا پڑے گا، ریکوڈک پر واویلہ کرنیوالے اپنا حصہ لے کر خاموش ہوگئے، مولانا ہدایت الرحمن
گوادر (بیورو رپورٹ) حق دو تحریک کے احتجاجی دھرنے کو ایک ماہ مکمل ہوگیا۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ اور حسین واڈیلہ کی قیادت میں دھرنا کے شرکاء نے گوادر پورٹ کو ملانے والی اہم شاہراہ ایکسپریس وے پر دھرنا دیکر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ہر تیسرے دن ایکسپریس وے پر احتجاج کرینگے۔ آئندہ جمعہ کو چھاؤنی پر احتجاج ریکارڈ کیا جائے گا۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ صبر کا مزید امتحان لیا گیا تو گوادر پورٹ کے احاطہ میں داخل ہونے سے گریز نہیں کرینگے۔ حق دوتحریک کے قائدین کا خطاب۔ لالا حمید چوک پر جاری حق دوتحریک کے احتجاجی دھرنے کو ایک ماہ کا عرصہ مکمل ہوگیا۔ اس موقع پر دھرنے میں شریک افراد کی بڑی تعداد نے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور حسین واڈیلہ کی قیادت میں احتجاجی مارچ کرتے ہوئے گوادر پورٹ کو ملانے والی اہم شاہراہ ایکسپریس وے پر ایک مرتبہ پھر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے حق دوتحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ شاید حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ ہم تھک گئے ہیں لیکن ہم حکمرانوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نہ تھکے اور نہ ہی ہمارے حوصلے پست ہوئے ہیں ہم کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں کررہے بل کہ اپنا بنیادی حقوق چاہتے ہیں جو ظالم حکمرانوں نے چھین لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے ہم اس وقت سیاسی اور پرامن جمہوری جدوجہد پر اکتفا کررہے ہیں اگر اس کو صرف نظر رکھا گیا تو حالات خراب ہونے کہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ اگر ہم پر طاقت کا استعمال کیا گیا تو یہ حکمرانوں کو مہنگا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا احتجاجی دھرنا اس وقت ختم کرینگے جب ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل کیا جائے گا۔ اگر ہمیں نظر انداز کیا گیا تو ہم اپنے آئندہ لائحہ عمل طے کرکے گوادر پورٹ میں جاکر احتجاج کرنے سے گریز نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ جب ہمارا نہیں تو کسی بھی کا نہیں جب یہ ترقی ہمیں اسپتال اور پانی نہ دے سکے تو اس کا ہونے یا نا ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم ہر تیسرے دن یہاں آکر دھرنا دینگے اور آئندہ جمعہ کو ریلی نکال کر گوادر چھاؤنی پر احتجاج ریکارڈ کرائینگے۔ چھاؤنی 80 ارب روپے سے بن رہی ہے مگر ہم بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حسین واڈیلہ نے کہا کہ حق دوتحریک کسی فرد یا جماعت کے خلاف تحریک نہیں بل کہ یہ تحریک بلوچ عوام کے ننگ ناموس کے تحفظ کے لئے ہے لیکن جو لوگ ساحل و وسائل کا نعرہ لگاتے ہیں حق دو تحریک نے ان کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل تک بی این پی یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتی تھی سی پیک بلوچستان کے مفاد میں نہیں لیکن آج بی این پی کا ایک ایم پی اے صوبائی اسمبلی میں کھڑے ہوکر حق دوتحریک پر سی پیک کو ناکام بنانے کا الزام عائد کررہا ہے دراصل یہ منافقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے ایم پی اے نے ایک عرصہ قبل ببانگ دہل کہا تھا کہ اگر گوادر والوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو وہ گوادر جاکر گوادر پورٹ بند کرونگا لیکن وہ دن ابھی تک نہیں آیا۔ ریکوڈک پر واویلہ کرنے والے بقراط و سقراط اپنا حصہ لینے کے بعد خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں یہ سیاست نہیں منافقت کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ سی پیک نے ہمارے لئے کوئی آسائش پیدا نہیں کی بل کہ ہمارے نوجوان لاپتہ ہوئے اور چوکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جو ترقی ہمیں محروم کرے وہ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا طعنہ دینے والے یہ بات رکھیں کہ بلوچستان میں ببمارمنٹ اور ایٹمی دھماکوں کرنے میں پی پی پی اور مسلم لیگ نواز شریک تھے جن کا بی این پی اتحادی ہے پہلے 11 ارب روپے لیکر بلوچستان کا سودا کیا اور اب لاپتہ افراد کے نام پر سودہ بازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حق دوتحریک اپنی جدوجہد سے کسی بھی صورت دستبردار نہیں ہوگی اور مسلسل جدوجہد کرتے رہینگے۔ اس کے بعد احتجاج کے پر امن طور پر منتشر ہوگیا۔


