کوئٹہ میں سریاب روڈ کی توسیع کا منصوبہ عوام کیلئے درد سر بن گیا، ٹریفک جام اور حادثات معمول بن گئے

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ میں سریاب روڈ کی توسیع کا منصوبہ عوام کے لئے درد سر بن چکا ہے زیر تعمیر روڈ کے منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے عوام ٹرانسپورٹروں کو آئے روز ٹریفک جام اور حادثات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے 3 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود کوئٹہ کے روڈ کو کشادہ کرنے کے لئے منصوبہ شروع کیا گیا تھا جس میں سریاب روڈ ، سبزل روڈ اور بائی پاس کے علاوہ قمبرانی روڈ کی دوبارہ تعمیر شروع کی گئی اور مختلف لنک روڈز کی تعمیر بھی تا حال مکمل نہیں ہوسکی سریاب روڈ ، سبزل روڈ اور دیگر کی تعمیر میں تاخیر اور سڑک پر زیر تعمیر کام کی وجہ سے بننے والے گڑھے ٹریفک میں خلل ڈالنے کے علاوہ حادثات کا سبب بن رہے ہیں دکانداروں کی دکانیں گرانے کے بعد انہیں تا حال دکانوں کی تعمیر کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی انہیں ان کی پراپرٹی ریٹ کے مطابق معاوضہ دیا گیا ہے سبزل روڈ، سریاب روڈ اور مغربی بائی پاس پر کام کی رفتار سست ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال پہنچنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے عوامی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ روڈز کی تعمیر جلد از جلد مکمل بنائی جائے اور لوگوں کو اس مشکل سے نجات دلائی جائے۔ وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمان بلوچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ بھی متعدد بار مذکورہ زیر تعمیر سڑکوں کا معائنہ کرچکے ہیں اس کے باوجود کام کی رفتار بہت سست روی کا شکار ہے عوامی حلقوں نے چیف جسٹس آف بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ زیر تعمیر سڑکوں کی بروقت تعمیر معیار کے مطابق ممکن بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں