پارٹی چیئرمین نے اندھا دھند طریقے سے صوبائی تنظیم کو تحلیل کیا جو آئین اور دستور کے منافی ہے، مختار یوسفزئی

کوئٹہ، سوات (انتخاب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مختار خان یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی حالیہ پریس بریفننگ جو پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں 26 نومبر 2022ء کو منعقد کیا گیا تھا کہ تمام فیصلوں کو پارٹی روایات اور آئین و دستور کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کیا ہے، پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے بیان میں کہا کہ سیکرٹری جنرل نے پارٹی کے آئین کے باب سوئم میں درج اپنے اختیارات کے شق (س) کے مطابق پارٹی کے مرکزی کمیٹی کا خصوصی اجلاس بلایا، جس میں 70 معزز ممبران مرکزی کمیٹی نے شرکت کی جن کے نام، ولدیت، سکونت، دستخط اور ان کے انگوٹھے کے نشان ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں متفقہ طور پر پارٹی کے صوبائی و مرکزی عہدیداران و ممبران کے اخراج سے متعلق پارٹی چیئرمین کے غیر آئینی اقدامات کو یکسر مسترد کیا اور آئندہ پارٹی کانگریس کے انعقاد تک پارٹی چیئرمین و صوبائی صدور کو کسی بھی مرکزی و صوبائی عہدیداران و ممبران کیخلاف تادیبی کارروائی کے تمام اختیارات سلب کئے، مرکزی کمیٹی نے آئین کے باب سوئم میں درج اپنے اختیارات کے شق ”ص“ کے مطابق سیکرٹری جنرل کو اختیار دیا کہ مرکزی کمیٹی کے اس فیصلے کی خلاف ورزی پر پارٹی چیئرمین، سینئر ڈپٹی چیئرمین اور مذکورہ دونوں صوبائی صدور جنوبی پشتونخوا، سندھ کو پارٹی سے خارج کرسکتے ہیں۔ بیان کہا گیا ہے کہ مرکزی ایگزیکٹو کی غیر آئینی میٹنگ اور پریس بریفننگ کو سختی سے رد کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ پارٹی چیئرمین نے جس اندھا دھند طریقے سے عہدیداران و ممبران حتیٰ کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی تنظیم کو تحلیل کرنے کا راستہ اپنایا ہے وہ پارٹی آئین سے ان کے نابلد ہونے کا واضح ثبوت ہے اور پارٹی چیئرمین کو پوری صوبائی تنظیم کے تحلیل کرنے کا اختیار آئین میں حاصل ہی نہیں پشتونخوا میپ کے سیکرٹری جنرل نے خیبر پختونخوا کے نام نہاد آرگنائزننگ باڈی کی تشکیل کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے پارٹی صوبائی تنظیم کو ہدایت کی کہ حسب دستور پارٹی سرگرمیوں کو دوام دیے اور کسی بھی غیر آئینی اقدام کو ملحوظ خاطر نہ رکھے۔ انہوں نے آرگنائزننگ باڈی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بدنام زمانہ اور جرائم پیشہ افراد کو مذکورہ نام نہاد باڈی میں شامل کیا گیا ہے بلکہ کئی افراد سرے سے پارٹی کے ممبران نہیں اور اکثریت ان افراد کی ہے جو برسوں سے بربنڈ نیٹ ورک اور خان شہید کاروان کے پلیٹ فارم سے پارٹی کیخلاف سرگرم عمل تھے۔ لہٰذا واضح کیا گیا کہ پارٹی کو ایسے عناصر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ پشتونخوا میپ کے سیکرٹری جنرل مختار خان یوسفزئی کے سوشل میڈیا کے استعمال، پشتونخوا ایس او کے آرگنائزننگ باڈی کی تشکیل سے متعلق محمود خان اچکزئی کے معروضات کو حقائق سے چشم پوشی قرار دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ پارٹی قومی جرگہ میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی بلکہ چیئرمین کا خود بھی سوشل میڈیا اکاءؤٹس موجود اور فعال ہے مگر افسوس سے کہنا پڑرھا ہے کہ پارٹی کے بربنڈ نیٹ ورک کے حواریوں نے سوشل میڈیا پر مسلسل پارٹی رہنماؤں کیخلاف گالم گلوچ اور طوفان بدتمیزی رواں دواں ہے جن کیخلاف تادیبی کاروائی کرنے کے بجائے انھیں آرگنائزننگ اور باڈیوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پارٹی کو فعال و منظم بنانے اور قومی کانگریس کے انعقاد کے لئے میرے بار بار کہنے پر بھی چیئرمین نے مرکزی کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا اور پشتونخوا ایس او جنوبی پشتونخوا کے آرگنائزننگ باڈی کی تشکیل سینئر ڈپٹی چیئرمین کی طرف سے یک طرفہ ذاتی پسند و نا پسند کے بنیاد پر کیا گیا تھا جس میں مزید اضافے کا لسٹ میں نے سینئر ڈپٹی چیئرمین کو 20 جون 2022ء کو دی تھی مگر بارہا یاد دھانی کے باوجود اس لسٹ کو آرگنائزننگ باڈی کا حصہ نہیں بنایا گیا اور یوں آرگنائزیشن کو متحد کرنے کے بجائے ایک پسندیدہ گروہ کے حوالے کیا گیا اور پھر مجبوراً 18 اگست کو میں نے بحیثیت سیکرٹری جنرل اخبارات میں پشتونخوا ایس او کے توسیع شدہ لسٹ شائع کرنے کے لئے مرکزی سیکرٹریٹ کوئٹہ بھیج دیا مگر اوس بیان کو روکا گیا حالانکہ پارٹی دفاتر سیکرٹری جنرل کے اختیار میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں