لاپتہ غلام مصطفی بلوچ زندہ نہیں تو لاش ہمارے حوالے کی جائے، بیٹی کا صوبائی حکومت سے مطالبہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) لاپتہ غلام مصطفی بلوچ کی بیٹی نے کہا ہے کہ 15 جنوری 2016ءسے میرے والد کو آواران سے لاپتہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے بھائی جمیل بزنجو نے ہمیں بتایا کہ آپ کے والد جاں بحق ہوچکے ہیں، میں مطالبہ کرتی ہوں کہ میرے والد کی لاش ہمارے حوالے کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرلاپتہ افراد کمیٹی کے ماما قدیر بلوچ و دیگر خواتین بھی موجود تھیں۔ غلام مصطفی کی بیٹی نے کہا کہ 15 جنوری 2016ءکو میرے والد مشکے ضلع آواران سے میرے دو رشتہ داروں کے ہمراہ لاپتہ کیا گیا ، ان دو نوں کو کچھ ماہ بعد رہا کردیا گیا جبکہ میرے والد غلام مصطفی تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں وزیراعلیٰ کے بھائی جمیل بزنجو سابق ضلعی ناظم نصیر بزنجو نے مشکے اور خصوصاً ہمارے گاﺅں کے معتبرین سے ووٹ مانگا جس پر ہمارے گاﺅں کے لوگوں نے شرط لگائی کے اگر غلام مصطفی بلوچ کو بازیاب کریں گے تو ہم ووٹ دیں گے جس پر دونوں رہنماﺅں نے میرے والد کی بازیابی کا وعدہ کیا اب جب انتخابات گزر گئے تو ہمارے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ غلام مصطفی کب رہا ہوں گے تو انہوں نے کہا ہے کہ میرے والد دوران حراست جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہوں کہ میرے والد کی لاش ہمارے حوالے کی جائے کیونکہ ماضی میں اس قسم کے اور بھی واقعات ہوئے جس میں کسی لاپتہ شخص کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا گیا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ زندہ ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مشکے آواران کیمپ سے جب رہا ہوئے تو انہوں نے میرے والد کی موجودگی کی تصدیق کی تھی میں نے اپنے والد کی رہائی کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے اور بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کرتی ہوں کہ میرے والد کی بازیابی کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔


