پنجگور ایئرپورٹ اور گردونواح کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضہ واگزار کرایا جائے، نیشنل پارٹی

پنجگور (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی ضلع پنجگور کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجگور ایرپورٹ اور رن وے کے اردگرد کے سینکڑوں ایکڑ سرکاری زمینوں پر موجودہ صوبائی وزیر انتظامیہ کی نگرانی میں قبضہ گیری جاری ہے حالانکہ موجودہ ڈی سی پنجگور نے اپنے پہلی ادوار کی پوسٹنگ میں انہی قبضے کئے ہوئے زمینوں کو بحق سرکار بلڈوزر چلا کر قبضہ گیروں کے چنگل سے آزاد کرایا اور کہا کہ یہاں جہازوں کو لینڈینگ میں خطرے درپیش ہیں اور اب موجودہ صوبائی وزیر کے کہنے پر اور انتظامیہ کے سرپرستی میں ایرپورٹ روڈ اور جہازوں کی رن وے کے اردگرد کے تمام زمینوں کو قبضہ کیا جا رہا ہے اور اونچی اونچی دیواریں تعمیر کیا گیا ہے انہوں کہاکہ پنجگور کے عوام کو اب پتہ چلا گیا ہے کہ پنجگور کراچی کی فلائٹ اور ایئرپورٹ کو کیوں اور کیسے بند کردیا گیا ہے کیونکہ پنجگور کے موجودہ صوبائی وزیر اسد اللہ بلوچ کو ایئر پورٹ کے اردگرد کی زمینوں کو قبضہ کرنا تھا اور پی آئی اے کی سروس بند کرکے عوام کو عذاب میں مبتلا کردیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت فی الفور آکشن لیکر انتظامیہ اور قبضہ مافیا کو روک کر پنجگور ایئر پورٹ کو بچایا جائے اور ایرپورٹ کو اے ایس ایف(ایئرپورٹ سیکورٹی فورسز)کے حوالے کیا جائے اور ایرپورٹ کو فنکشنل اور پی آئی اے کے پبلک سروس بحال کرایا جائے بصورت دیگر پنجگور عوام مجبور ہوکر سخت موقف اختیار کرنے پر حق بجانب ہوگی نیشنل پارٹی پنجگور نے کہا کہ پنجگور کے سلکٹیڈ صوبائی وزیر زراعت نے پنجگور کو دیوالیہ بنا کر عوام سے منہ کا نوالہ چھیننے کے بعد پنجگور کے عوام کی زمین جائیداد جدی پشتی ارضیات سمیت سرکاری اور قومی اداروں پر قبضہ کرکے محل اور مارکیٹ بنانے کی انتہائی بھیانک اور بھونڈی منصوبہ بندی کا آغاز شروع کر رکھا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موصوف صوبائی وزیر زراعت ایک عوامی نمائندہ نہیں بلکہ پنجگور کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے سیاست کا مقدس نام استعمال کرکے پنجگور کو تاراج بنانے کی خوفناک عمل کا مرتکب ہورہا ہے پنجگور ایئرپورٹ ایریا میں گزشتہ سال انتظامیہ کی سرپرستی میں پنجگور کے رہائشی گھروں کو مسمار کرکے غریب عوام سے سر کا چھت چھین کر یہ بتایا گیا تھا کہ ایئرپورٹ کی زمین ہیں یہاں جہاز لینڈ نہیں کرسکتا مگر افسوس وہ دن کو ایک سال نہیں گزرا کہ صوبائی وزیر نے صرف ایک سرکاری کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ بنا کر اس کے تعمیر کے بہانے پورے ائیرپورٹ کے زمین اور ایریا سمیت رن وے تک قبضہ کرکے چاردیواری تعمیر کردیا گیا جو تمام زمینوں کو صوبائی وزیر نے اپنے مختلف پارٹی ورکروں اور رشتہ داروں کے نام الائٹ کرکے قبضہ کیا ہوا ہے نیشنل پارٹی سوال کرتا ہے جس دن صوبائی وزیر نے لوگوں کے رہائشی گھروں کو مسمار کرکے عوام کو بے دخل کیا گیا کہ یہاں جہاز لینڈ نہیں کرسکتا اب جو خود لینڈ مافیا بن کر قبضہ کیا ہوا ہے اور بڑے سے بڑے اونچھی چار دیواری بنائی جارہی ہے اور رن وے تک قبضہ کیا ہے کیا اب جہاز کمپیوٹرز کے ذریعے اتر تا ہے اب جہاز کی لینڈنگ کا مسئلہ حل ہوگیا ایسا نہیں کہ موصوف نے اپنی منصوبہ بندی کے تحت پنجگور ائیرپورٹ کو بند کرکے پنجگور کے عوام کیلئے اپنی جائیداد بنانے کی پلان کے تحت فضائی سروس سے بھی محروم کردیا گیا ہے نیشنل پارٹی نے کہا کہ ہم کسی بھی ترقیاتی کام کے مخالف نہیں ہیں لیکن جہاں عوامی ٹیکسوں سے اگر ایک بلڈنگ تعمیر کی جاتی ہے اور اسکے بدلے پورے قومی زمینات اور جائیداد کو قبضہ کرکے کوڈیوں کے دام فروخت کرکے سرمایہ اکھٹا کیا جائے عوامی نمائندگی کے نام پر سراسر بدنما داغ ہے جسکو ہر زی شعور پنجگور کے عوام کو آواز اٹھانا چاہیے اگر نیشنل پارٹی حقائق بیان کرتی ہے تو صوبائی وزیر زراعت کے چہیتے ولولہ کرتے ہیں کہ نیشنل پارٹی ترقی کے مخالف ہے نیشنل پارٹی صوبائی وزیر اور انکے ہمنواؤں کی طرف سے عوام کے رہائشی گھروں کو مسمار کرنے کے بعد قبضہ کرکے محل اور مارکیٹ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور چیف جسٹس پاکستان چیف جسٹس بلوچستان وفاقی تحقیقاتی اداروں اور پی ائی اے کے حکام بالا سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ ائیرپورٹ کے زمینوں کی قبضہ گیری کا نوٹس لیکر صوبائی وزیر اور انکے گماشتوں کے خلاف فوری طور پر کاروائی کا آغاز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں