چین خلیج تعاون کونسل کی پہلی سربراہی کانفرنس،رکن ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور تعلقات کے فروغ پر اتفاق

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) چین خلیج تعاون کونسل کی پہلی سربراہی کانفرنس کا ریاض میں انعقاد۔ چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ، سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان، قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی، بحرین کے شاہ شیخ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ، کویت کے ولی عہد مشعل، عمان کے نائب وزیراعظم فہد بن محمود السعید، متحدہ عرب امارات کے فجیرہ کے چیف شرکی اور جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نائف فلاح الحجرف نے اجلاس میں شرکت کی۔ کانفرنس میں چین خلیج تعاون کونسل کے درمیان تزویراتی شراکت داری کی بنیاد پر تعلقات کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ہفتے کے روز چینی میڈیا کے مطابق شی جن پھنگ نے کانفرنس سے چین خلیج تعاون کونسل کے روشن مستقبل کی مشترکہ تعمیر کے عنوان پر تقریر کی۔ شی جن پھنگ اپنے خطاب میں چین خلیج تعاون کونسل کے مابین تعلقات کا جائزہ لیا اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے مابین اتحاد کی ستائش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فریقین کو باہمی اعتماد کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی دلچسپی کے امور میں تعاون کرنا چاہیے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ آئندہ تین سے پانچ سال میں چین خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ توانائی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی اختراع، زبان اور ثقافت سمیت دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان نے اس سربراہی کانفرنس کی صدارت کی۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سربراہی کانفرنس سے فائدہ اٹھا کر مستقبل میں چین کے ساتھ اہم بنیادی تنصیبات، صحت اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔ اس سربراہی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اور عوامی جمہوریہ چین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان2023 ء سے 2027 ء تک اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے لیے ایکشن پلان اور چین اور جی سی سی ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں سفارشات پیش کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں