نظریاتی اور تنظیمی بحران سے نجات کیلئے پشتون قوم اور کارکنوں کو تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا، پشتونخوا میپ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پشین اور قلعہ عبداللہ کی ضلع کمیٹیوں کے زیر اہتمام پشین، مئے زئی اڈہ اور نورک سلیمان خیل میں پارٹی کارکنوں اور عوامی اجتماعات کا انعقاد ہوا جس سے پارٹی کے سینئر نائب صدر عیسیٰ روشان، نائب صدر یوسف خان کاکڑ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات خوشحال خان کاکڑ، اعظم مسے زئی، ملک عبیداللہ، مصطفی پیرعلیزئی، ڈاکٹر محمود، جلال الدین کاکڑ، ڈاکٹر حیات، ضلعی معاون خلیل ترین نے خطاب کرتے ہوئے 28،27 دسمبر 2022ئکو پارٹی کی پانچویں قومی کانگریس کی تیاریاں تیز کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی تاریخی قومی کانگریس میں پارٹی کے ہزاروں مندوبین پارٹی کے رہنما مرکزی اداروں کا انتخاب کرینگے اور اسی تاریخی کانگریس کے نتیجے میں پشتونخوا میپ کے کارکن اپنے پارٹی کونئے عزم اور ولولے کے ساتھ ایک بار پھر ایسا متحد و منظم کرے گی کہ ہمارے غیور ملت کی نجات کا یہ عظیم قومی سیاسی لشکر قومی اور جمہوری جدوجہد کا ایک نیا باب رقم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کے موجودہ اضلاع خان صمد خان کے دور سے پشتون افغان قومی سیاسی تحریک کا اہم مراکز رہے ہیں اور یہاں کے عوام نے پارٹی کے باتور اور سرباز کارکنوں کی رہنمائی میں پر افتخار کردار ادا کیا ہے۔ یہاں کے باشعور کارکنوں کو پارٹی کو حالیہ نظریاتی اور تنظیمی بحران سے نجات دلانے میں بھی اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے آزاد اور تاریخی افغانستان پر مسلط کردہ جارحیت و مداخلت کی انسانیت سوز جنگ اور پشتونخوا وطن پر مسلط کرد تباہ کن صورتحال سے کروڑوں پشتون عوام کی معیشت اور معاشرت کا سب کچھ تباہ ہوگیا ہے، اس اذیت ناک صورتحال میں ہمارے پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان علاقوں کے امن و امان کو ایک منظم پلان کے تحت تباہ کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے خوشحال علاقے بدامنی،لاقانیونیت اور معاشی تباہی کا شکار بنے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ اپنے قومی اہداف اور قومی ارمانوں کی تکمیل کی راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے مذکورہ اضلاع کے ہر طبقہ فکر کے وطن پال عوام سے پرزور اپیل کہ وہ پشتونخوا میپ کے سیاسی لشکر میں شامل ہوکر خان عبدالصمد خان اچکزئی، عبدالرحیم خان مندوخیل، شیر علی باچا، رزاق دوتانی اور عثمان خان کاکڑ جیسے عظیم قومی ہیروز اور دیگر کے ارمانوں کی تکمیل کے لئے تاریخی رول ادا کرے۔


