ریکوڈک خفیہ ڈیل پر سیاسی ہلچل

تحریر : نصیر بلوچ
بالاآخر حکومت نے مشکل فیصلہ کر ہی لیا۔ حکومت کی طرف سے دانستہ یا نادانستہ طور پر کیا گیا ریکوڈک خفیہ معاہدہ حکومت کے گلے پڑگیا ہے۔ سینیٹ اراکین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سینیٹ کو بلڈوز کرکے ریکوڈک قانون ساز بل منظور کروایا گیا۔ جے یو آئی اور اے این پی کو اعتماد میں لیے بغیر حکومت نے یہ اہم قانون سازی کی ہے۔ اس اہم قانون سازی کے بعد سے ایک سیاسی ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ اختر مینگل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت نے ہمیں اعتماد میں لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اختر مینگل نے مزید کہا کہ وہ حکومت سے علیحدگی پر غور کریں گے، یعنی ملک میں سیاسی عدم استحکام آسکتا ہے۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں ہی کہہ دیا تھا کہ ایک گہرے منصوبے کے تحت اختر مینگل کی سیاسی ساکھ کو ختم کیا جارہا ہے۔ انہیں لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ مقرر کرکے ان کے سیاسی بیانیے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اداروں کا عمل کافی مو¿ثر ثابت ہوا ہے۔ ریکوڈک معاہدے پر اختر مینگل کے پاس ایک نیا سیاسی بیانیہ تیار کرنے کا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ قانون سازی کے بعد ہی سے اختر مینگل نے عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ حالانکہ بلوچستان حکومت بھی انہی کی مہربانی سے اقتدار پر براجمان ہوسکی ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پارلیمان کو یتیم خانہ قرار دیا ہے۔ سینئر سیاست دان اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ریکوڈک قانون کی نہ صرف مخالفت کی ہے بلکہ اسمبلی میں قانون کی دستاویز پھاڑ کر دو ٹکڑے کردیئے۔
18 ویں ترمیم لانے اور ترتیب و ترویج دینے میں رضا ربانی کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ وہ ایک سینئر سیاستدان ہیں چیزوں کو باریک بینی سے دیکھتے ہیں۔ اس بل کیدستاویزات کو پھاڑ پھینکنا کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے۔ اس لیے بھی کہ وہ ایک سینئر سیاست دان اور سینٹر ہیں جن کو اعتماد میں لیے بغیر بل کو ایجنڈے میں شامل کیے بغیر پارلیمان کو بلڈوز کرکے پاس کروایا گیا ہے۔ اختر مینگل اگر واقعی اپنی سیاسی ساکھ کو بچانا چاہتے ہیں اور عوام کے لیے دردِ دل رکھتے ہیں تو وہ حکومت سے ریکوڈک خفیہ معاہدے کیخلاف سخت اختجاج کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر حکومت سے علیحدگی اختیار کریں گے۔ اس صورت میں اگر وہ کوئی سخت اقدام نہیں اٹھاتے تو یہ بی این پی کی سیاسی موت ثابت ہوگی۔
اختر مینگل اگر جے یو آئی کو یقین دلائیں کہ وہ بلوچستان میں عدم اعتماد لانے میں ان کا ساتھ دیں گے تو وہ اس معاملے پر ضرور اختر مینگل کے ساتھ موثر آواز بلند کریں گے۔ چونکہ اختر مینگل اگر چاہیں تو بلوچستان حکومت کو فارغ کیا جاسکتا ہے۔ اخترمینگل عدم اعتماد کے بعد معمول کی طرح حکومت جے یو آئی یعنی اسلم رئیسانی کو سونپ دیں۔
آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال میں ہوشربا اقدامات ہوتے نظر آئیں گے، اخترمینگل کو اگر حکومت مطمئن نہیں کرسکی تو اختر مینگل کے آئندہ کے لائحہ عمل حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت دو پیروں پر کھڑی ہے اگر اخترمینگل علیحدگی اختیار کرتے ہیں جو بمشکل اسے کرنے دیں گے۔ اگر علیحدگی اختیار کریں گے تو وفاق کی سیاست پر ایک ہلچل سی مچ جائے گی جس کا سیاسی فائدہ عمران خان کو ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں