پاکستان میں تمام حملوں میں پاکستانی سرزمین ہی استعمال ہوئی، ٹی ٹی پی کا دعویٰ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے افغانستان کی عبوری حکومت سے مدد ملنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں تمام تخریب کار حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین ہی استعمال کرتی ہے۔نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق نور ولی محسود نے غیر ملکی میڈیا ’سی این این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان کے خلاف جنگ پاکستان کی سرزمین کے اندر سے ہی لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ہم ہتھیاروں کے ساتھ پاکستان کی سرزمین پر کئی دہائیوں تک لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔افغان عبوری حکومت سے حاصل کی گئی مدد کو خفیہ رکھنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’جب ہمیں افغان عبوری حکومت سے کسی بھی مدد کی ضرورت ہی نہیں تو اسے خفیہ رکھنے کا کیا فائدہ؟‘۔حال ہی میں پاکستان میں افغان سرحد کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس پر پاکستان نے افغان عبوری حکومت پر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ ماہ وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے کابل کا ایک روزہ دورہ کیا تھا اور عبوری سے سرحدی مسائل پر بات چیت کی تھی۔پاکستان افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ تخریب کار گروہوں کو دوبارہ منظم اور حملوں کے لیے اپنی سرزمین کا استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپنے وعدوں پر عمل کرے۔امریکا نے پاکستان کے خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بین الاقوامی تخریب کار افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔تاہم ٹی ٹی پی کے سربراہ نے کسی بھی حملے کی صورت میں امریکا کو جوابی کارروائی سے خبردار کیا۔نور ولی محسود نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکا کو پاکستان کی ترغیب پر ہمارے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرکے ہمیں تنگ کرنے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے، امریکا کی جانب سے اس طرح کے فیصلے سے امریکی سیاست کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔‘انہوں نے یہ ریمارکس امریکا کی جانب سے افغانستان کے اندر ممکنہ طور پر ٹی ٹی پی کمانڈرز کو نشانہ بنانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر دیے، جیسے ستمبر میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل میں ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔نور ولی محسود نے کہا کہ وہ امریکا سے گروہ کے خلاف اس طرح کی کارروائی کی توقع نہیں رکھتے، اگر امریکا نے اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا تو وہ اپنے نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا’۔انہوں نے سی این این کو بتایا کہ امریکا کو ابھی تک پاکستان کی ’دوغلی پالیسی‘ سمجھ نہیں آئی’۔ٹی ٹی پی کے رہنما نے انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا کہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے سمت بدلتا رہتا ہے۔نور ولی محسود نے پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔گزشتہ ماہ کالعدم جماعت نے جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کو پورے ملک میں حملہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ایک بیان میں ٹی ٹی پی نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے بنوں، لکی مروت سمیت خیرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں ان کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ہے۔سیز فائر معاہدہ ختم کرنے کے فوری بعد ٹی ٹی پی نے کوئٹہ کے قریب پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے پولیس دستے کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا تھا۔خودکش حملے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں