پشتونخوا وطن میں اداروں کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی تشویشناک ہے، این ڈی ایم
کوئٹہ :نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس صوبائی صدر احمد جان خان کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں مرکزی جنرل سیکریٹری مزمل شاہ، مرکزی آرگنائزر کمیٹی کے ممبر ہارون خان بازی، صوبائی ترجمان انجینئر ایمل خان ناصر اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی اجلاس میں پارٹی کی صوبے میں سیاسی، تنظیمی سرگرمیوں،مختلف سیاسی ایشوز اور عوامی مسائل پر پارٹی موقف کی رپورٹ پیش کی گئی جس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آیندہ کے لائحہ میں پارٹی کو صوبیمیں مزید منظم و فعال بناکر باشعور سیاسی و نوجوانوں کو پارٹی صفوں میں شامل کرکے عوام کے حقوق و اختیارات کے حصول کی جدوجہد کو تیز تر کرنے کے سلسلے میں فیصلے کیے گئے اجلاس میں ضلع کوئٹہ کے ضلعی کانفرنس کو23 جون بروز جمعہ،31 دسمبر کو قلعہ سیف اللہ میں گرینڈ شمولیتی جلسہ عام جبکہ 8جنوری 22 20 کو ضلع ہرنائی کا ضلعی کانفرنس کا انعقاد کیا جائیگا ضلعی کانفرنسوں میں پارٹی کے ضلعی عہدیداروں کا انتخاب عمل میں لایا جائیگا جبکہ قلعہ سیف اللہ کے جلسہ عام میں متعدد سیاسی کارکن اور نوجوان نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ میں شمولیت کا اعلان کرینگے اجلاس میں ضلع ہرنائی،خوست 14اگست کو ھونے والی اور حکومتی فورسز کی فائرنگ سے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کی شہادت اور دیگر کو زخمی کرنے کے واقعہ اور حکومتی فورسز کی جانب سے عوام کو یرغمال بناکر خوف و دہشت مسلط کرنے کیخلاف طویل احتجاجی تحریک اور عوامی مطالبات کی حل کیلئے صوبائی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات کو ضلع ہرنائی کے عوام اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں کے موقف کی تائید پر مبنی قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور اعلی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حکومتی کمیٹی کی رپورٹ پر فوری عمل درآمد کرتیہوئے ضلع ہرنائی کے عوام کو موجودہ اذیت ناک صورتحال اور حکومتی فورسز کی غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر انسانی سرگرمیوں و اقدامات سے نجات دلاکر عوام کی معاشرتی، سیاسی اور کاروباری سرگرمیوں اور حقوق و اختیارات بحال کرکے موجودہ تشویش ناک صورتحال کا خاتمہ کرے اجلاس میں پشتونخوا وطن میں ریاستی اداروں اور خفیہ اداروں کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی، بھتہ خوری، بدامنی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس پر حکومت اور ملکی سیاسی پارٹیوں کی مجرمانہ خاموشی کو پشتون دشمنی پر مبنی پالیسی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ پشتونخوا وطن میں اس سنگین اور تشویش ناک صورتحال کیخلاف عوام کی جاری جمہوری مزاحمتی تحریکیں حکمرانوں کے ان پشتون دشمن پالیسیوں کیخلاف ردعمل ہے جو قومی نجات کی جمہوری جدوجہد میں تبدیل ہوگی لہذا ملک کی استعماری و آمرانہ قوتیں اس پشتون دشمن پالیسیوں اور استعماری مائینڈ سیٹ کو فوری تبدیل کرکے ملکی آئین وقانون کو تسلیم کرے اجلاس میں پشتونخوا وطن کے باشعور سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ موجودہ سنگین صورتحال کا درست ادراک کرتے ہوئے قومی نجات اور عوام کی قومی، جمہوری، ثقافتی حقوق و اختیارات کے حصول کیلئے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کی صفوں میں شامل ہوجاہیں۔


