بلوچستان اسمبلی اجلاس، اراکین کا سیلاب زدگان کیلئے وفاق کی جانب سے امداد نہ ملنے پر احتجاج
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے کہا کہ سیلاب کے بعد صوبے کو وفاق کی جانب سے کسی قسم کی بھی امداد نہیں ملی صوبے کے سیلاب زدگان بے یار و مددگار ہیں،صوبائی وزیر اسد بلوچ کا مرکز کے رویے پر ایوان سے واک آؤٹ۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر علی ترین نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سوئی گیس کے پریشر میں کمی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ برقرار ہے، پارلیمانی وفد کے جلد اسلام آباد روانگی کا انتظام کیا جائے گا،جس پر ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے رولنگ دی کہ پارلیمانی وفد کی اسلام آباد روانگی کا نوٹی فیکشن آج جاری کیا جائے گا، محکمہ بین الصوبائی رابطہ وزیر اعظم سے ملاقات کا اہتمام کرے۔اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیرزراعت میر اسد اللہ بلوچ نے بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی کی جانب سے اٹھائے گئے نقطے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب کے دوران نصیر آباد کو پوری دنیا میں جھیل کی طرح دیکھایا جس کی بناء پر 2کھرب روپے تک کی امداد مل چکی ہے مگر بلوچستان جو پاکستان کاسب سے بڑا صوبہ ہے اسے اب تک ایک روپیہ بھی نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی امداد سے بلوچستان کو 1کھرب روپے دینے چاہیئں اس موقع پر انہوں نے وفاق کے روئیے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے صوبائی وزیر محمد خان لہڑی اورحکومتی رکن ملک نعیم بازئی کو ہدایت کی وہ میر اسد اللہ بلوچ منا کر ایوان میں لائیں جس کے بعد میر اسد اللہ بلوچ دوبارہ ایوان میں آئے۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پراظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رکن میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ مرکز کے ساتھ ساتھ ہمیں صوبے کے رویہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کسی نے وفاق کو صوبے کی جانب سے ایک خط تک نہیں لکھا کمیٹی بنانے کا کہا گیا کمیٹی بنائی بھی گئی مگر اب تک اسلام آباد بھی کوئی کمیٹی نہیں گئی۔جس کے جواب میں صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے حکومت بنانے میں 80فیصد کردار ادا کیا 15دن تک الماس میں ایک گھرمیں رہے ہم پہلے بھی وزیر تھے اب بھی وزیر ہیں مگر اس وقت بھی مسئلہ اپوزیشن کا ہی تھا ہمیں پوائنٹ اسکورننگ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم پیراشوٹ نہیں بلکہ عوام کے ووٹ لیکر آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک رکن قومی اسمبلی چیف سیکرٹری کے پاس گئے کہ گندم تقسیم ہورہی ہے انکے حلقے بھی دی جائے جس پر چیف سیکرٹری نے انہیں جواب دیا کہ مرکزسے ایک پیسہ بھی نہیں ملا جس کے بعد رکن قومی اسمبلی واپس چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بیٹھے نمائندے وزیراعظم کو بلوچستان لاتے اور صوبے کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کرواتے بلوچستان کو سیلاب کی امداد سے ایک ٹیڈی بھی نہیں ملی۔ اس موقع پرصوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے نقصانات کے ازالے کے لئے صوبے کے پاس وسائل نہیں تاہم وفاقی حکومت نے اس ضمن میں ایک روپیہ بھی تک ادا نہیں کیا۔ وفاق کا رویہ بلوچستان کے ساتھ پہلی مرتبہ ایسا نہیں بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں میں نے اور صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر احسن اقبال وزارت پیٹرولیم پی پی ایل اور خزانہ کے حکام سے ملاقاتیں اور مختلف اجلاسوں میں شرکت کرکے ان سے صوبے کے حقوق کا مطالبہ کیا ہے بلوچستان کے 6.13ارب کے بجٹ میں 157ارب روپے این ایف سی کی مد میں بلوچستان کو ملنے تھے تاہم ابھی تک 30ارب روپے ادا نہیں کئے گئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم سوئی گیس کی مد میں 113ارب روپے بلوچستان کو فراہم نہیں کئے جارہے۔ وزیر اعظم نے نصیر آباد میں سکول اور ہسپتال کے قیام کا اعلان کیا مگر اسکے لئے فنڈ جاری نہیں ہوئے۔ یہ فنڈ بھی بلوچستان حکومت کو دینا پڑ رہا ہے انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز چھ وفاقی وزرا کوئٹہ دورے پر آئے تاہم انہوں نے ہم سے ایئر پورٹ پر ملاقات کی یہ مناسب طریقہ نہیں تھا ہم نے ان سے کہا کہ اگر وہ کوئٹہ آرہے تھے تو ہم سے کہتے بلوچستان ایک روایتی صوبہ ہے ہمیں روایات کے مطابق انکی مہمان نوازی کرتے بلوچستان کے مسائل انکے سامنے رکھتے صوبے کے پاس آئندہ ماہ کی تنخواہیں ادا کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے دس ارب روپے کا اعلان کرکے بلوچستان کو ایک روپیہ بھی نہیں دیا صوبائی حکومت نے اپنی حد تک زمینداروں کو دوبارہ انکے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے بیج تقسیم کئے ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کو چاہئے کہ آئندہ ماہ جنوری میں اسلام آباد جاکر وہاں کے حکام کے ساتھ بیٹھ کر اپنے حق کا مطالبہ کریں۔


