منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کی جائے، بی ایس او

کوئٹہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی وائس چیئرمین خالد بلوچ مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ زونل پریس سیکرٹری ناصر زہری لکپاس کے مقام پر منشیات خلاف کراچی سے سائیکل مارچ کرنے والے گل خان لہڑی کا استقبال کیا اور انکے جلوس کے ہمراہ پریس کلب پہنچے اس موقعے پر اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بی ایس او کے نمائندہ وفد نے کہا ہے گل خان لہڑی کے کراچی سے سائیکل پر منشیات فروشی کے خلاف لانگ مارچ قابل ستائش اور حوصلہ افزاء عمل ہے اس سے پہلے بھی خضدار کے نوجوانوں نے منشیات فروشی کے خلاف پیدل مارچ کیا جبکہ نوشکی میں جامعہ بلوچستان کے طالب علم سمیع اللہ مینگل کو منشیات فروشی کے خلاف آواز بلند کرنے پر شہید کیا گیا لیکن بلوچستان حکومت تاحال منشیات فروشی کے کاروبار کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی بلکہ منشیات فروشی کو سرکاری سطح پر تحفظ دینے کا تاثر پیدا ہوچکی ہے حکومتی بے حسی کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں نوجوان منشیات کا شکار ہورہے ہے جوکہ کسی صورت المیہ سے کم نہیں ہے انہوں نے مزید کہا ہے تعلیمی اداروں کی سطح پر بھی منشیات کا استعمال خوفناک حد تک بڑھ چکی یے ہاسٹلز سمیت تمام ادارے منشیات سے محفوظ نہیں ہے منشیات نوجوان نسل کو مکمل اپاہج اور معذور کررہی ہے اس سازش کا مقصد نوجوانوں کو قومی مستقبل سے مکمل طور پر غافل کرنا ہے بی ایس او اس منفی سماج دشمن سازش کے خلاف گل خان لہڑی جیسے عظیم سنگت کے جدوجہد کو خراج تحسن پیش کرتی یے

منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کی جائے، بی ایس او” ایک تبصرہ

  1. منشیات فروشوں کے خلاف کبھی بھی کاروائی نہیں ہو گی۔یہ منشیات فروش بھتہ دیتے ہیں۔بھتہ خور چاہتے ہیں کہ یہ کاروبار پلے پھولے تاکہ زیادہ بھتہ آئے۔مختصراََ یہ کہ یہ کاروبار آقاؤں کی سر پرستی میں ہوتا ہے۔یہ زمینی آقا نہیں چاہتے کہ منشیات فروشی یا نسل کشی کا کاروبار ختم ہو۔میں تو کہتا ہوں جو محکمے اس کے روک تھام کے لئے بنائے گئے ہیں وہ ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں