گندم بحران پر قابو نہ پایا گیا تو بلوچستان میں آٹے کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، پاکستان فلور ملز

کوئٹہ (انتخاب نیوز) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان چیپٹر کے چیئرمین سید ناصرآغا اوربدرالدین کاکڑ نے کہاہے کہ بلوچستان میں گندم بحران پر قابو نہ پایاگیا تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، بدقسمتی سے پنجاب سے بلوچستان درآمد ہونے والے گندم کو اسمگلنگ کانام دیا جارہا ہے۔ اس وقت گندم کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے سب سے زیادہ گندم پرائیویٹ اسٹاک میں موجود تھی جو ختم ہونے کو ہیں بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں گندم ناپید ہے، بلوچستان کویومیہ 2لاکھ 75ہزار بوریاں اورماہانہ 16لاکھ گندم بوری کی ضرورت ہے پاسکو کہیں گندم کی کمی ہو تو وہاں ضرویات پوری کرتی ہے لیکن بلوچستان کو ترجیح نہیں دیا جارہاہے پاسکو نے 7 سے 8 ارب روپے کی سبسڈی گلگت بلتستان کو دی،سبسڈی کے ذریعے گلگت بلتستان میں 1400 روپے کی فی گندم بوری فراہم کر سکتی ہے تو بلوچستان کو کیوں نہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بدرالدین کاکڑ، عصمت اللہ کاکڑ ودیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید ناصر آغا نے کہاکہ فلورملزایسوسی ایشن بلوچستان ریجن نے چار ماہ قبل احتجاج بھی کیا تھاچار ماہ پہلے بھی ہمارا یہ ہی مطالبہ تھا کہ فلورملز کو وافر مقدار میں گندم فراہم کیا جائے درآمد شدہ گندم کی خریداری ڈالرز میں کی تھی۔پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے درآمد شدہ گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہواانہوں نے کہاکہ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں عوام کو کوئی سبسڈی نہیں مل رہی۔،اس وقت گندم کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے سب سے زیادہ گندم پرائیویٹ اسٹاک میں موجود تھی جو ختم ہونے کو ہیں بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں گندم ناپید ہے پاسکو کہیں گندم کی کمی ہو تو وہاں ضرویات پوری کرتی ہے لیکن بلوچستان کو ترجیح نہیں دیا جارہاہے،وزیراعلی پنجاب نے بلوچستان کو 6 لاکھ بوری گندم کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن وعدہ وفا نہیں کیا گیاوزیراعلی پنجاب اپنے وعدے کو وفا کرے تاکہ بلوچستان کی عوام کو رعایتی نرخوں پر آٹا میسر آسکے پنجاب کو روانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ 40 ہزار بوری فراہم کیاجاتاہے ماہانہ 75لاکھ گندم بوری فراہم کی جاتی ہے لیکن بلوچستان کوماہانہ 16لاکھ گندم بوری کی ضرورت ہے یومیہ 2لاکھ 75ہزار بوریاں ضرورت ہے فلور ملز مالکان اپنے طورپر گندم خرید کر کراچی تا خضدار کے ذریعے کوئٹہ لاتے ہیں جس کی لاگت بڑھ جاتی ہے،انہوں نے کہاکہ وفاق چھوٹے صوبوں کو کچھ نہیں سمجھتے اگر صورتحال ایسا ہی رہا تو آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں 12ہزار تک پہنچ گئی ہیں سرکار کی جانب سے 9مختلف مقامات پر گندم کی تقسیم کی جارہی ہے جو ایک ہفتے کے بعد بند ہوجائیگی کیونکہ مزید ذخیرہ نہیں ہے،سبسڈی فلور ملز مالکان کیلئے نہیں بلکہ عوام کیلئے دی جاتی ہے،بلوچستان اسمبلی کے ارکان پی ایس ڈی پی میں پی ایچ ڈی کرچکے ہیں لیکن عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے،دیگر صوبوں میں مارکیٹ ریٹ برقرار رکھنے کیلئے 3ہزار سے زائد سبسڈی دی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پنجاب سے بلوچستان درآمد ہونے والے گندم کو اسمگلنگ کانام دیاجارہاہے گزشتہ روز ایک اخبار میں خبر لگی تھی جوپنجاب میں گندم کی 20کلوآٹے سے متعلق تھی اور مالک پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی کہ آپ گندم بلوچستان اسمگل کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں